علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔

March 1, 2026

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

March 1, 2026

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

March 1, 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

March 1, 2026

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔

March 1, 2026

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

March 1, 2026

آیت اللہ خامنہ ای کی 4 جون 1989ء سے 28 فروری 2026ء تک کی حکمرانی

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی 4 جون 1989ء سے 28 فروری 2026ء تک کی حکمرانی

آیت اللہ علی خامنہ ای نے مجموعی طور پر تقریباً 44 سال ایران کے اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر گزارے جس میں 4 جون 1989ء سے 28 فروری 2026ء تک تقریباً 36 سال اور 8 ماہ تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ رہے۔

March 1, 2026

آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای ، اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ، مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بااثر اور گرم سرد چشیدہ سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ شیعہ عالمِ دین، انقلابی، صدرِ مملکت اور بالآخر ملک کے سب سے اعلیٰ سیاسی و مذہبی رہنما کے طور پر ان کی زندگی ایران کے ایک بادشاہت سے تھیوکریسی (مذہبی حکمرانی) میں تبدیل ہونے کے نظریاتی سفر کی عکاس ہے۔ ایک سادہ شیعہ مذہبی گھرانے میں جنم، اسلامی انقلاب سے تربیت، قاتلانہ حملوں کا سامنا، اور آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد اٹھان — یہ سفر محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ایک انقلاب کی سوانح عمری ہے۔

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔

علی خامنہ ای نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، پھر مشہد کے حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں قم چلے گئے، جہاں انہوں نے شیعہ دُنیا کے بڑے علما جیسے آیت اللہ حسین بروجردی اور آیت اللہ روح اللہ خمینی سے کسبِ علم کیا۔ قم ہی میں انہیں پہلوی شاہی حکومت کے خلاف انقلابی نظریات سے آشنائی ہوئی۔

انہوں نے فارسی و عربی ادب، شاعری، سیاسی نظریات، اور اسلامی فلسفہ میں گہری دلچسپی اختیار کی۔

1960 کی دہائی تک خامنہ ای محض عالم نہیں رہے، بلکہ ایک سرگرم سیاسی کارکن بن چکے تھے۔ 1963 میں آیت اللہ خمینی کی گرفتاری کے بعد وہ خفیہ سیاسی کاموں میں شریک ہو گئے، حکومت مخالف خطبات دیتے اور انقلابی پمفلٹ تقسیم کرتے رہے۔

انہیں کئی بار شاہ کی خفیہ پولیس “ساواک” نے گرفتار کیا، قید میں رکھا اور جلاوطن بھی کیا گیا۔

انہوں نے مصر کے اسلام پسند نظریہ دان سید قطب اور نوآبادیاتی نظام مخالف مصنفین کی کتابوں کے فارسی تراجم کیے، جن سے ان کی مغرب مخالف سوچ مزید مضبوط ہوئی۔ انہوں نے انقلابی علما اور طلبہ کے خفیہ نیٹ ورک بھی منظم کیے اور اسلامی اتحاد پارٹی کے قیام میں مدد کی۔

1979 کے انقلاب میں وہ ایک اہم چہرے کے طور پر ابھرے۔ شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ انقلاب کے بعد خامنہ ای کو حکومت میں اہم عہدے دیے گئے، خاص طور پر داخلی سلامتی اور نظریاتی تربیت کے شعبوں میں۔

1980 میں مجاہدین خلق (MEK) کی طرف سے ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا۔ بم دھماکے میں ان کا دایاں بازو ہمیشہ کے لئے مفلوج ہو گیا اور چہرے پر بھی زخم آئے، جو موت تک ان کی جدوجہد کی نشانی تھی ۔

1981 میں صدر محمد علی رجائی کے قتل کے بعد، خامنہ ای ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے اور یہ عہدہ 1989 تک دو مدتوں کے لئے نبھایا۔

یہ وہ دور تھا جب ایران-عراق جنگ، داخلی سیاسی صفائیوں اور اندرونی کشمکش نے ملک کو گھیر رکھا تھا۔

صدر کے طور پر انہوں نے خود انحصاری، اسلامی شناخت اور امریکی و سوویت اثرات کی مخالفت کی پالیسی اپنائی۔ وہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ گہرے روابط استوار کرنے لگے جو ان کی طاقت کا مستقبل میں ستون بنے۔

3 جون 1989 کو آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد، مجلس خبرگان نے ان کے جانشین کے طور پر علی خامنہ ای کا انتخاب کیا۔ اگرچہ وہ اس وقت “مرجع تقلید” کے منصب پر فائز نہ تھے، مگر دستور میں لچک دکھائی گئی اور بعد ازاں اسے عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس طرح ترمیم کیا گیا کہ ایک ایسی شخصیت جسے “مناسب سیاسی و دینی مقام” حاصل ہو، رہبر بن سکتی ہے۔

یوں خامنہ ای سپریم لیڈر اور ولی فقیہ بن گئے — یعنی وہ رہنما جو ایران کے دینی اور سیاسی راستے کی رہنمائی کرے۔

اگلے کئی سالوں میں خامنہ ای نے ایران کے تمام اہم اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ فوج، عدلیہ، انٹیلی جنس، اور گارڈین کونسل میں اپنے وفادار افراد کو تعینات کیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے معیشت، سیاست اور دفاع میں وسیع اختیار حاصل کر لیا اور ایک “ریاست کے اندر ریاست” کی شکل اختیار کر لی۔

خامنہ ای کی قیادت حکمت، صبر، اور مغربی عزائم پر گہرے شک و شبہات سے تعبیر رہی ہے۔ وہ اکثر خارجہ پالیسی، نیوکلیئر مذاکرات، اور داخلی سیاست میں براہِ راست مداخلت کرتے ہیں۔

ان کا نظریہ “ولایت فقیہ” کے تصور پر مبنی تھا — جو آیت اللہ خمینی نے پیش کیا تھا۔ تاہم خامنہ ای کی تشریح میں مضبوط مرکزیت، خودمختاری، اور مغربی سیکولرازم کی مخالفت شامل تھا۔

وہ “نرم جنگ” کے خطرے کی بارہا وارننگ دیتے تھے — یعنی مغرب کے ثقافتی اور نفسیاتی اثرات سے بچاؤ۔ ان کے خطابات اسلامی وحدت، صہیونیت مخالف بیانیے، اور حزب اللہ و حماس جیسے گروہوں کی حمایت پر مشتمل ہوتے تھے ۔

معاشی طور پر وہ “معاشی مزاحمت” کے تصور کو فروغ دیتے تھے، جس میں مقامی پیداوار، خودکفالت اور پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

ان کے دورِ قیادت میں احتجاجات پر سخت کریک ڈاؤن، آزادی اظہار پر پابندیاں، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید ہوئی ۔

2009 کی “سبز تحریک” ان کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی، جب احمدی نژاد کی دوبارہ کامیابی پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگے۔ خامنہ ای نے احمدی نژاد کی حمایت کی اور احتجاج کو سختی سے کچلنے کا حکم دیا، جس سے اصلاح پسند حلقے ان سے بدظن ہوئے۔

انہیں IRGC کو مالی و سیاسی طاقت دینے اور کرپشن کو بڑھاوا دینے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم ان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے جنگ، پابندیوں اور خطے کی غیر یقینی صورتحال میں ایران کی خودمختاری بچائی۔

خامنہ فارسی، عربی اور آذری ترکی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، اور شاعری و ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں۔

ان کے چھ بچے ہیں، جن میں خاص طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو پس پردہ اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔

وہ عوامی سطح پر کم نظر آتے تھے، تاہم ان کی تقاریر ٹیلی وژن کے ذریعے عوام تک پہنچتی تھی اور نظام کے نظریاتی پیغام کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی تھی ۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے مجموعی طور پر تقریباً 44 سال ایران کے اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر گزارے جس میں 4 جون 1989ء سے 28 فروری 2026ء تک تقریباً 36 سال اور 8 ماہ تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ رہے۔


آیت اللہ علی خامنہ ای کے طویل دورِ اقتدار (1989ء تا 2026ء) کے دوران ایران پر براہِ راست غیر ملکی فوجی حملے، پراکسی جنگیں اور دہشت گردانہ کارروائیاں ہوتی رہی تھی، جن میں سے حالیہ چند سالوں میں شدت آئی۔


اپریل 2024ء میں اسرائیل نے اصفہان کے قریب ایک فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ اکتوبر 2024ء میں اسرائیل نے تہران، ایلام اور خوزستان میں میزائل سازی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ جون 2025ء میں “بارہ روزہ جنگ” کے دوران اسرائیل نے ایران کے 40 سے زائد مقامات بشمول جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ اور 28 فروری 2026ء میں اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں میں تہران سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا جس 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای جانبحق ہوگئے۔

نوٹ: یہ آرٹیکل شبیر درانی نے لکھا۔ کاپی رائٹ حقوق درانی محفوظ رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

March 1, 2026

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

March 1, 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

March 1, 2026

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔

March 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *