بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے حالیہ ٹیلیفونک رابطے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر تو اس رابطے کا مقصد شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کی ضرورت پر تبادلہ خیال بتایا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین اسے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف ایک گہرے ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ انتہائی کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور دونوں ممالک کے عزائم مسلم دنیا کے مفادات کے ٹکراؤ میں نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث میں صارفین کا مؤقف ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کی یہ قربت درحقیقت ایران کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ایک جانب جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو غیر معمولی طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہیں مودی کا نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہونا بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں وہ ایران کو اپنا ‘دوست ملک’ قرار دیتا رہا ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ بیانیہ زور پکڑ رہا ہے کہ بھارت اپنے اصل عزائم چھپانے میں ناکام رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا یہ بڑھتا ہوا اشتراک نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے لیے بھی ہائبرڈ وار فیئر اور سائبر جارحیت کے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس دوستی کو ‘دوست نما دشمنی’ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ خطے کی تباہی اور مسلم ممالک کو کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔
مودی اور نیتن یاہو کے اس رابطے کو عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔