"> مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف 'یہود و ہنود' گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے
نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

بھارتی وزیراعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ۔ سوشل میڈیا پر 'یہود و ہنود' گٹھ جوڑ اور ایران کے خلاف سازشوں پر شدید عوامی ردِعمل

March 2, 2026

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے حالیہ ٹیلیفونک رابطے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر تو اس رابطے کا مقصد شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کی ضرورت پر تبادلہ خیال بتایا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین اسے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف ایک گہرے ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ انتہائی کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور دونوں ممالک کے عزائم مسلم دنیا کے مفادات کے ٹکراؤ میں نظر آتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں صارفین کا مؤقف ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کی یہ قربت درحقیقت ایران کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ایک جانب جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو غیر معمولی طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہیں مودی کا نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہونا بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں وہ ایران کو اپنا ‘دوست ملک’ قرار دیتا رہا ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ بیانیہ زور پکڑ رہا ہے کہ بھارت اپنے اصل عزائم چھپانے میں ناکام رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا یہ بڑھتا ہوا اشتراک نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے لیے بھی ہائبرڈ وار فیئر اور سائبر جارحیت کے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس دوستی کو ‘دوست نما دشمنی’ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ خطے کی تباہی اور مسلم ممالک کو کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔

مودی اور نیتن یاہو کے اس رابطے کو عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

دیکھیے: ایران پر حملہ؛ کون کیا چاہتا، کہاں کھڑا ہے؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *