افغانستان میں مزاحمتی فورس نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ روز ہرات اور قندوز میں دو حملے کر کے 5 طالبان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا، جن میں ایک کمانڈر شریعت اللہ خوستی بھی شامل ہے۔
سورسز کے مطابق پہلا حملہ اتوار کی شام قندوز میں کیا گیا، جہاں مقامی کمانڈر شریعت اللہ خوستی معمول کے گشت پر تھا کہ علی آباد شاہراہ پر “انگور باغ کے علاقے” میں این آر ایف کے گوریلوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ پہلے دستی بم پھینکا گیا، اس کے بعد فائرنگ کر دی گئی، جس میں کمانڈر سمیت 3 ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ این آر ایف کے گوریلے محفوظ طور پر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
اسی دوران دوسرا حملہ ہرات میں کیا گیا، جہاں ضلع گذرہ کے علاقے چہار سو میں طالبان گروہ کے خصوصی یونٹ کے ارکان کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ طالبان کی اسپیشل فورسز کا دستہ تلاشی کے بہانے مقامی شہریوں پر تشدد کر رہا تھا کہ این آر ایف کے گوریلوں نے گھات لگا کر حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ این آر ایف کے گوریلے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ این آر ایف نے اپنے حملوں میں مزید شدت اور جدت لانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد افغانستان کو طالبان کی ناجائز حکمرانی سے آزاد کرانا ہے۔