پاک افغان سرحد پر کشیدگی انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ننگرہار اور قندھار کے مختلف پوائنٹس پر بمباری کی اطلاعات ہیں، جبکہ طورخم سے نوشکی تک سرحد کے متعدد مقامات پر دونوں افواج کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات گئے پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ننگرہار میں رنگ روڈ کے قریب واقع بارڈر پولیس کے ہیڈکوارٹر اور گمبری میں قائم ‘201 خالد بن ولید کور’ کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ کابل میں بھی پاکستانی طیاروں کی مسلسل پروازوں کے دوران ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، جس نے شہر میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
دوسری جانب طالبان فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے زابل۔ نوشکی (بلوچستان)، خوست، علیشیرو۔ شمالی وزیرستان اور ننگرہار کے طورخم۔ لنڈی کوتل سرحدی علاقوں میں پاکستانی چوکیوں پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں جانب سے آرٹلری اور مارٹر گولوں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے اور جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔
یہ حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ تاحال ان کارروائیوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے ہیں، تاہم سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔