وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے “آپریشن غضب للحق” کے حوالے سے اہم ترین تفصیلات جاری ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی سرحدوں پر افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ اشتعال انگیزی اور زمینی حملوں کو بڑی جرات مندی سے پسپا کر دیا گیا ہے۔
تین مارچ کی صبح 10 بجے تک کی صورتحال کے مطابق شمالی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوںمیں ہونے والی ان جھڑپوں میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور مجموعی طور پر 67 حملہ آور ہلاک ہو چکے ہیں۔
Special Update 1000 hours 3 March: Operation Ghazb lil Haq
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 3, 2026
In Balochistan:
▪️Afghan Taliban resorted to physical attack on 16 locations in Northern Balochistan in Qilla Saifullah, Noshki and Chaman Districts while engaging our troops on 25 locations in fire raid.
▪️The…
وزیر اطلاعات کے مطابق شمالی بلوچستان کے حساس اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب افغان طالبان نے 16 مختلف مقامات پر زمینی حملے کیے، جبکہ 25 مقامات پر فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کاروائی کے نتیجے میں 27 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، تاہم وطن کے دفاع کی خاطر ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک سپاہی جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے سرحدی محاذ پر بھی رات بھر شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں دشمن نے ایک مقام پر زمینی پیش قدمی کی کوشش کی جبکہ 12 مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے ہوئے۔
پاک فوج کی بروقت اور دندان شکن کارروائی میں خیبر پختونخوا کے سیکٹرز میں 40 افغان طالبان ہلاک کر دیے گئے، جبکہ خوش قسمتی سے یہاں پاکستانی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں میں اس وقت ‘فالو اپ آپریشنز’ جاری ہیں اور صورتحال کی مکمل تفصیلات آج دوپہر کو جاری کی جائیں گی۔