بھارتی عالم سید سلمان ندوی کی جانب سے پاکستان کی سالمیت پر سوال اٹھانے اور ریاست کو غیر ملکی مفادات کا آلہ کار قرار دینے کے حالیہ بیانات کو ماہرین نے منصوبہ ساز سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ بیانیہ فقط جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک خود مختار ریاست کی آئینی شناخت اور اس کے دفاع کے حق کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش ہے، جو تاریخی اور تزویراتی حقائق کے سامنے مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
سیاسی و مذہبی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا دوہرا معیار ہے جو بھارت میں مسلمانوں کی ابتر صورتحال پر تو خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن پاکستان کو ‘خوارج’ پر لیکچر دینے کی جرات کر رہے ہیں۔ اس رویے کو قرآنی آیت “اشتروا بآيات الله ثمنا قليلا” کی عملی تفسیر قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ سلمان ندوی جیسے افراد کا بیانیہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ اور بعض مخصوص مذہبی گروہوں کے اس گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے جس کا اعتراف بھارتی مشیرِ داخلہ اجیت ڈوول بھی اپنی تقاریر میں کر چکے ہیں کہ کس طرح ان عناصر کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہم آہنگی اور درآمد شدہ فتوے
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ صورتحال ‘ہندوستانی علماء طالبان بیانیاتی ہم آہنگی’ کی قلعی کھول رہی ہے، جہاں طالبان اپنی جنگی پوزیشن کو جواز فراہم کرنے کے لیے بھارتی علماء کی تائید کو نمایاں کر رہے ہیں۔ عوامی سطح پر خود مختاری کا دعویٰ کرنے والوں کا عملی طور پر ‘درآمد شدہ فتوؤں’ پر انحصار کرنا ان کے اندرونی کمزور جواز کی علامت ہے۔ جب کوئی بھارتی عالم پاکستان کو “غیر قانونی ریاست” قرار دے کر طالبان کی لڑائی کو “حق و باطل” کی جنگ پیش کرے، تو یہ مذہبی مؤقف سے زیادہ سرحد پار مربوط سیاسی پیغام رسانی محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی علماء کو افغانستان ہجرت کی ترغیب دینا اور تنازع کو ‘الٰہی مشن’ کا رنگ دینا محض بیانیاتی جوش و خروش ہے، جو سرحد پار عسکریت پسندی کو نہیں چھپا سکتا۔
روابط اور علاقائی استحکام
مفتی محمد شہباز کا حالیہ دورہ ہند اور بعض مخصوص مذہبی گروہوں کی سرگرمیاں اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہیں۔ سلمان ندوی، جو ہمیشہ سے بھارتی حکومتوں کے قریبی حلیف رہے ہیں، کا پاکستان کے دفاعی اقدامات کو ‘جارحیت’ قرار دینا دراصل ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ سید سلمان ندوی کی شخصیت خود ان کے اپنے ہی حلقوں میں ہمیشہ متنازع رہی ہے اور وہ اپنے جارحانہ و غیر مستند بیانات کی وجہ سے مسلسل تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ندوۃ العلماء اور دارالعلوم دیوبند جیسے معتبر اداروں کے جید علماء ان کے غیر محتاط رویے اور متنازع افکار پر سخت گرفت کر چکے ہیں۔
اس تناظر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے جید علماء نے ہمیشہ افغان طالبان کو علم اور دین کی صحیح روح سے روشناس کروایا اور عوامی سطح پر ان کی حمایت اور خیر خواہی کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم جب سے سرحد پار سے ایک مسلم ریاست کے خلاف حملوں اور دہشت گردی کا آغاز کیا گیا تب سے پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء یک زبان ہو کر میدان میں نکل آئے ہیں۔ پاکستانی علماء کا متفقہ مؤقف ہے کہ کسی بھی اسلامی ریاست کے خلاف عسکریت پسندی کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں، اور ندوی جیسے بیرونی عناصر کی جانب سے اسے ‘الٰہی مشن’ قرار دینا سراسر گمراہ کن ہے۔
سید سلمان ندوی کی شخصیت خود ان کے اپنے ہی حلقوں میں ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ ندوۃ العلماء اور دارالعلوم دیوبند جیسے معتبر اداروں کے جید علماء ان کے غیر محتاط رویے اور متنازع افکار پر سخت گرفت کر چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کی انسانی اور سفارتی بنیادوں پر حمایت کی، لیکن سرحد پار دہشت گردی پر کسی بھی ذمہ دار ریاست کا خاموش رہنا ممکن نہیں۔
سلمان ندوی کے پاکستان مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر عوام کا کہنا ہے کہ یہ دراصل علامہ اقبال کے اس مشہور شعر کی عملی تصویر ہے کہ “مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت، ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!”۔ اقبال نے اس شعر کے ذریعے ان مذہبی حلقوں کی فکری کجی کو بے نقاب کیا تھا جو محض ظاہری عبادات کی اجازت کو حقیقی آزادی سمجھ لیتے ہیں، اور آج سلمان ندوی کی صورت میں وہی ذہنیت سامنے آ رہی ہے جو بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور اپنی فکری محکومی سے نظریں چرا کر ایک آزاد مسلم ریاست کے حقِ دفاع پر معترض ہے۔
واضح رہے کہ ان کی یہ تنقید کسی اخلاقی یا دینی بنیاد پر نہیں، بلکہ نئی دہلی کی اس تزویراتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بیانیاتی ہم آہنگی کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دینا اور خطے میں بھارت کی اپنی مداخلتوں اور ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے، تاکہ مذہب کے لبادے میں سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کی جا سکے۔