افغانستان میں عدالتی احکامات کے تحت دی جانے والی جسمانی سزاؤں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے عالمی سطح پر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر اتنے مردوں اور خواتین کو سرعام کوڑے مارے گئے جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اب تک کے تمام برسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق رچرڈ بینیٹ نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے جسمانی سزاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کے منافی ہے۔ ان کے بقول سزاؤں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جو عالمی برادری میں افغانستان کی تنہائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
See statement below: Taliban’s increasing use of judicially-sanctioned corporal punishment violates international human rights law. In 2025 more men&women were publicly flogged than in all previous years combined since Taliban retook power in 2021, and it continues. #Afganistan https://t.co/ELo0Y1j7DA
— UN Special Rapporteur Richard Bennett (@SR_Afghanistan) March 3, 2026
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھی ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ سزائیں انسانی وقار اور جسمانی سالمیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرعام کوڑے مارنا ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز فعل ہے، جسے بین الاقوامی قانونی تناظر میں تشدد کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی ماہرین نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر روکا جائے اور عالمی معیارات کا احترام کیا جائے۔