افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

March 4, 2026

افغانستان میں سال 2025 کے دوران طالبان کی جانب سے سرعام کوڑے مارنے کی سزاؤں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے

March 4, 2026

طالبان کمانڈر کا متنازع بیان: مالی امداد کے عوض ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی مشروط پیشکش

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں
افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

طالبان کمانڈر کا ایران سے جنگ کا مشروط اعلان؛ مالی امداد کے بدلے تہران کے خلاف زمینی آپریشن کی پیشکش۔ پاک افغان اور ایران سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نیا رخ

March 4, 2026

افغانستان اور ایران کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعات اور پانی کی تقسیم پر جاری کشیدگی کے دوران ایک طالبان کمانڈر کا انتہائی حساس بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مالی امداد کے بدلے ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹوں کے مطابق طالبان کمانڈر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر انہیں مطلوبہ مالی و عسکری امداد فراہم کی جائے تو وہ اپنی فورسز کے ہمراہ ایران کے خلاف زمینی آپریشن شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کمانڈر کے بقول وہ تہران کے خلاف محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ انہیں بیرونی تعاون حاصل ہو۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کی عبوری حکومت اور ایران کے درمیان سرحدی حدود اور ہلمند دریا کے پانی کے حقوق پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں، جن میں جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں سے اس قسم کے بیانات خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ابھی تک اس بیان کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرینِ سیاسیات اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب، ایران نے ہمیشہ افغان سرحد پر استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس تازہ ترین دھمکی آمیز بیان پر سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، افغانستان میں موجود مختلف دھڑوں کی جانب سے اس طرح کی پیشکشیں خطے میں کرائے کے جنگجوؤں کے کلچر کو فروغ دے سکتی ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *