لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

طالبان کو افرادی قلت کا سامنا، موجودہ فورسز کے لڑائی سے انکار کے بعد شمالی صوبوں میں جبری بھرتیوں کی اطلاعات

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔
طالبان کو افرادی قلت کا سامنا، موجودہ فورسز کے لڑائی سے انکار کے بعد شمالی صوبوں میں جبری بھرتیوں کی اطلاعات

تاحال طالبان حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال کی حساسیت کے پیش نظر آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں، تاہم شمالی افغانستان سے آنے والی اطلاعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

March 4, 2026

پاک افغان کشیدگی میں شدت اور طوالت کے بعد طالبان کو مبینہ طور پر افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں جبری بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف لڑائی کے لیے مالی مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ انکار کی صورت میں زبردستی بھرتی کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

اسی ذریعے کے مطابق طالبان کی حکمت عملی میں مبینہ طور پر غیر پشتون نوجوانوں، بالخصوص ازبک شہریوں، کو زیادہ تعداد میں بھرتی کرنے کا رجحان شامل ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ایک جانب بعض علاقوں میں آبادیاتی و معاشی اثرات مرتب کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب علاقائی سطح پر پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے مثبت جذبات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

مقامی سطح پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جبری طور پر بھیجے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں اور کئی خاندان اپنے نوجوانوں کی واپسی کے لیے فکرمند ہیں۔ اسی نوعیت کی اطلاعات صوبہ سرِ پل سے بھی موصول ہوئی ہیں جہاں مبینہ طور پر نوجوانوں کو محاذ پر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

تاحال طالبان حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال کی حساسیت کے پیش نظر آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں، تاہم شمالی افغانستان سے آنے والی اطلاعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *