مقتدر سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا افغانستان کو فتح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بگرام ایئر بیس پر حالیہ کاروائی کا مقصد دہشت گردوں کے اس ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا جو سرحد پار سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا
سییورٹی ذرائع نے افغانستان میں جاری حالیہ فوجی کاروائیوں کے حوالے سے اہم ترین تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، تاہم پڑوسی ملک کو فتح کرنا ہمارا نصب العین نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان کے اہم ترین ‘بگرام ایئر بیس’ پر کیے گئے آپریشن میں ان تمام اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا جا رہا تھا۔ اس کامیاب کاروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کی کاروائیوں کی صلاحیت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ “آپریشن غضب للحق” کے تحت اب تک افغان سرزمین پر مجموعی طور پر 58 کاری ضربیں لگائی جا چکی ہیں، جن کے دوران دہشت گردوں کی 226 چیک پوسٹیں اور ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ان کاروائیوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی افواج نے 36 اسٹریٹجک پوسٹوں پر اپنا پرچم لہرا کر وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ بگرام ایئر بیس پر موجود اس تمام ڈھانچے کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے جسے دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ امریکی اخبارات نے بھی اس کاروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک بڑی عسکری کامیابی قرار دیا ہے۔
افغانستان کی تاریخی حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے سکیورٹی حکام نے ایک نیا اور دو ٹوک بیانیہ پیش کیا کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتیں یہاں آتی ہیں، اپنا مخصوص کھیل کھیلتی ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کر کے چلی جاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں افغانستان ایک جنگی میدان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
پاکستان نے افغان حکومت کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو فی الفور پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ سکیورٹی ذرائع نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک دہشت گردی کے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے تب تک سرحد پار ٹارگٹڈ کاروائیاں جاری رہیں گی کیونکہ پاکستان محض بیانات پر نہیں بلکہ ٹھوس دفاعی حکمت عملی پر یقین رکھتا ہے۔ سکیورٹی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل اور ‘رجیم چینج’ کا فیصلہ خود کرنا چاہیے، پاکستان کا واحد مقصد اپنی سرحدوں کا تحفظ اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ ہے۔
دیکھیے: آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک