حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی حکام اور سکیورٹی تجزیہ کار بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کی جنگ افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس اور تحریک طالبان افغانستان کی قیادت کے خلاف ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے مستقل طور پر برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق جب کسی ملک کی سرزمین سے مسلح گروہ دوسرے ملک کے اندر حملے کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری اس ریاست پر عائد ہوتی ہے جو انہیں وہاں سرگرم رہنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسی لیے پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔
طالبان کی پرانی پالیسی اور افغانستان کی قیمت
تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی اسی نوعیت کی پالیسی نے افغانستان کو عالمی تنہائی اور ایک طویل جنگ کی طرف دھکیل دیا تھا۔ اس وقت القاعدہ کو پناہ دینے کے نتیجے میں افغانستان تقریباً بیس سال تک جاری رہنے والی جنگ کا میدان بن گیا تھا۔
اس جنگ نے نہ صرف افغانستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کیا بلکہ لاکھوں افغان شہریوں کو نقل مکانی اور غربت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ طالبان قیادت بھی نظریاتی قربت کی بنیاد پر عسکریت پسند گروہوں کو برداشت کرتی ہے تو اس کے نتائج دوبارہ افغان عوام کو ہی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
عالمی مثالیں: سرحد پار حملوں کا ردعمل
بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جب کسی ملک کی سرزمین سے دوسرے ملک کے خلاف حملے ہوتے ہیں تو متاثرہ ریاست ردعمل دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر دیگر خطوں تک ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستوں نے اپنی سلامتی کے دفاع میں کارروائیاں کیں۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق اسی اصول کے تحت اسلام آباد اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان عناصر کو ختم کرنا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔
طالبان حکومت اور امریکی مالی معاونت کا سوال
علاقائی مباحث میں ایک اور اہم موضوع طالبان حکومت کو ملنے والی بین الاقوامی مالی معاونت ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق طالبان انتظامیہ کو ہر ماہ تقریباً 80 ملین ڈالر کی امداد موصول ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس مالی معاونت کی مکمل تفصیلات اور شرائط واضح نہیں ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے ملک کی جانب سے اتنی بڑی مالی امداد عموماً کسی نہ کسی اسٹریٹجک مفاد سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کو اس امداد کے بدلے کیا حاصل ہو رہا ہے اور طالبان قیادت اس بارے میں کیا وضاحت پیش کرتی ہے۔
پاکستان پر الزامات اور طالبان کا تضاد
طالبان قیادت کی جانب سے بعض مواقع پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ پاکستان خطے میں امریکہ کے مفادات کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف خود ایک تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کے مطابق اگر طالبان حکومت خود امریکہ سے مالی معاونت حاصل کر رہی ہے تو پھر پاکستان پر اسی حوالے سے الزامات لگانا سیاسی اور منطقی تضاد پیدا کرتا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں طالبان کی پالیسیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔
ایران کے بحران میں پاکستان کا مؤقف
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حوالے سے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے سفارتی مؤقف کو بھی نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ مبصرین کے مطابق مسلم دنیا میں پاکستان اور ترکی وہ دو ممالک تھے جنہوں نے ایران پر حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔
ایرانی قیادت نے بھی بعض مواقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر ان اقدامات کو جو کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ سے قبل کیے گئے تھے۔
ایران اور بھارت کے تعلقات پر نئے سوالات
ایران کے موجودہ بحران نے تہران اور نئی دہلی کے تعلقات کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ایران اور بھارت کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون میں اضافہ ہوا تھا، خصوصاً چاہ بہار بندرگاہ جیسے منصوبوں کے ذریعے۔
تاہم حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کی محتاط یا خاموش پالیسی نے ایرانی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ بحران کے وقت بھارت کی اسٹریٹجک شراکت داری ایران کے لیے کس حد تک قابلِ اعتماد ثابت ہو سکتی ہے۔
خطے میں واقعات کی ترتیب اور اسٹریٹجک سوالات
کچھ علاقائی ماہرین اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ حالیہ واقعات کا وقت غیر معمولی طور پر قریب نظر آتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ، اسی دوران پاکستان کے خلاف طالبان حملوں میں اضافہ، اور پھر ایران پر اسرائیلی کارروائیاں، یہ سب واقعات تقریباً ایک ہی عرصے میں پیش آئے۔
اگرچہ جغرافیائی سیاست میں اتفاق بھی ممکن ہوتا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے تسلسل اکثر بڑی اسٹریٹجک حرکیات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا خطے میں کسی وسیع تر اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا حصہ۔
خطے کے لیے ایک اہم موڑ
مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے بنیادی اسباب کا خاتمہ اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔
دیکھیے: آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک