ایران اور خطے میں جاری کشیدہ عسکری صورتحال کے مابین تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریبی علاقے کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر ‘ارتش’ کے نواح میں ہوئے ہیں، جو پاکستانی سفارت خانے سے انتہائی قریب واقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کی قیادت میں تقریباً 50 سفارتی اہلکار وہاں موجود ہیں جو مشکل ترین حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جاری جنگی صورتحال میں جہاں عسکری تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہاں سفارتی عملے کی حفاظت ایک سنگین اور انسانی سوال بن کر سامنے آیا ہے۔
تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات۔ ذرائع کے مطابق سفارتخانہ ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر ارتش کے قریب واقع ہے جہاں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو سمیت لگ بھگ 50 سفارتی اہلکار اس وقت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جنگی صورتحال میں ان کی سلامتی ایک بڑا سوال ہے۔ پاکستان کے لیے…
— Azaz Syed (@AzazSyed) March 6, 2026
اسلام آباد سے تاحال سفارتی عملے کے انخلاء یا ہنگامی اقدامات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم تہران میں موجود پاکستانی سفارت کاروں کی بہادری اور ان مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا عمل انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی فریقین سفارتی حدود اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
دیکھیے: امریکی آبدوز کا ایرانی جہاز پر حملہ، 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ