کرم سیکٹر پر دہشت گردوں نے پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی بڑی کوشش کی، جسے پاک فوج نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اطلاعات کے مطابق 5 اور 6 مارچ کی درمیانی شب افغان حکومت کی افواج اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے مشترکہ طور پر سرحد پار سے اچانک جارحیت کا ارتکاب کیا۔
دہشت گردوں نے 10 بڑے پیمانے پر زمینی حملوں اور سرحد پار سے 20 کے قریب شدید فائرنگ کے راؤنڈز کے ساتھ پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ان تمام حملوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا بلکہ جوابی کاروائی میں دہشت گردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس تصادم میں 60 سے 65 دہشت گرد ہلاک اور 75 سے 80 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ رات بھر جاری رہنے والی ان شدید جھڑپوں کے دوران پاک فوج کا ایک جوان بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا، جبکہ 3 جوان زخمی ہوئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پر مسلسل ناکامیوں اور بھاری نقصانات کے بعد افغان عبوری حکومت کے دستوں کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ زمینی حقائق سے شکست کھانے کے بعد افغان حکومت کا سرکاری میڈیا اور ان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی کامیابیوں کے پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ تاہم عالمی میڈیا اور خود افغانستان کے اندر بھی ان کے بے بنیاد دعوؤں کی کوئی پذیرائی نہیں ہو رہی۔
پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے، لیکن حالیہ واقعات سرحد پار سے جاری مسلسل اشتعال انگیزی کو ظاہر کرتے ہیں۔