میران شاہ: شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں بنوں میران شاہ مین روڈ پر واقع چشمہ سربندکی چیک پوسٹ کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 شہری زخمی ہوگئے جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکا بنوں۔میران شاہ مرکزی شاہراہ پر قائم چشمہ سربندکی چیک پوسٹ کے قریب ہوا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میران شاہ ہسپتال ڈاکٹر آصف اقبال کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اب تک 14 زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ ان میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔
ذرائع کے مطابق مزید زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جس کے باعث میران شاہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کے علاج کے لیے خون کے عطیات کی فوری ضرورت ہے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک تنظیم اسود الخراسان نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور الحمید خودکش فورس کا رکن تھا۔
پولیس اور سیکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دیکھئیے: پاک افغان کشیدگی میں اضافہ، خوست اور وزیرستان سرحد پر شدید جھڑپیں جاری