امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روس، ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے، جس کا مقصد امریکی جنگی اثاثوں کو نشانہ بنانا ہے۔ انٹیلی جنس امور سے واقف حکام کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی میں ایک نئے اور خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جس سے امریکہ کے دو بڑے حریف ممالک کے مابین گہرے ہوتے عسکری تعاون کا عندیہ ملتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق روس کی جانب سے فراہم کردہ ان ہدفی معلومات میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کے درست مقامات شامل ہیں۔ اس تعاون کا عملی مظاہرہ حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آیا جب بحرین کے علاقے جُفیر میں واقع امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر کے قریب ایک عمارت کو ایرانی ساختہ ڈرون حملے میں نقصان پہنچا۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا ٹھوس اشارہ ہے کہ روس نے براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر، اس کشیدہ محاذ آرائی میں ایران کا ساتھ دینا شروع کر دیا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معلومات امریکی افواج کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں اور عسکری ماہرین اس صورتحال کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ روس اور ایران کی جانب سے تاحال اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔