مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ تنازعہ محض دو ممالک کے درمیان لڑائی نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سیاست، معیشت اور علاقائی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس جنگ کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک پھیل سکتے ہیں، اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایران کی داخلی طاقت اور مزاحمت ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں ایران کو شدید دھچکا پہنچا جب اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور ملک کے سیاسی و عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ عام خیال یہ تھا کہ دہائیوں سے پابندیوں اور عالمی دباؤ کا شکار ایران اس صدمے کے بعد کھڑا نہیں رہ سکے گا۔ تاہم ایران نے جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے بہت سے مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔
یہ صورتحال کسی حد تک اس سانحے سے مشابہ ہے جو پاکستان میں 1988 میں پیش آیا تھا جب جنرل ضیا سمیت اعلیٰ فوجی قیادت ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئی تھی۔ اس سانحے کے باوجود پاکستان نے اپنے ریاستی نظام کو برقرار رکھا۔ آج دنیا ایران میں بھی اسی طرح کی مزاحمت اور استحکام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
اس جنگ کے فوری نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں جو جنگ شروع کرنے والوں نے رکھی تھیں۔ خیال یہ تھا کہ چند ہی دنوں میں ایران کی سیاسی قوت ٹوٹ جائے گی اور اقتدار کسی بیرونی حمایت یافتہ قیادت کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس ایران نے نہ صرف اپنی ریاستی ساخت کو برقرار رکھا بلکہ اپنے مخالفین کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی حملہ آور قوتوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست ہے۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ ایران خطے میں تنہا ہو چکا ہے اور عرب ممالک اس کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔ تاہم موجودہ حالات نے اس تصور کو کسی حد تک چیلنج کیا ہے۔ کئی ممالک نے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک نئی حقیقت جنم لے رہی ہے۔
اس جنگ کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی معاشی اور تجارتی ساخت تبدیل ہو جائے۔ مثال کے طور پر دبئی جو آج دنیا کے بڑے تجارتی اور سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس کی ترقی ایک ایسے دور میں ہوئی جب کراچی آہستہ آہستہ معاشی اور انتظامی مسائل کا شکار ہوتا گیا۔ جیسے جیسے دبئی کی اہمیت بڑھی، کراچی کی بین الاقوامی تجارتی حیثیت کم ہوتی گئی۔ اسی تناظر میں بعض تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر بلوچستان میں بے چینی برقرار ہے اور گوادر ابھی تک اپنی مکمل معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکا تو اس کے پس منظر میں علاقائی مسابقت اور جغرافیائی سیاست بھی ایک عنصر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ جنگ کے نتیجے میں وہی تجارتی مراکز مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں جو ماضی میں خطے کے معاشی مرکز بن چکے تھے۔ اگر جنگ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ، تجارت اور انسانی وسائل ایک مرتبہ پھر نئے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ بھی ممکن ہے کہ خطے کے بعض نئے شہر اور بندرگاہیں مستقبل میں اہمیت حاصل کر لیں۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے پہلے توانائی کا مسئلہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا اہم مرکز ہے اور کسی بڑی جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت اور مہنگائی پر پڑے گا۔ اسی طرح تجارت اور سمندری راستوں کے متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان کی درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب یہ صورتحال پاکستان کے لیے بعض مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اگر علاقائی تجارت کے راستوں اور بندرگاہوں کی اہمیت تبدیل ہوتی ہے تو پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی بدولت ایک نئی معاشی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام، بہتر حکمرانی اور مؤثر معاشی پالیسیوں کو یقینی بنایا جائے۔
بالآخر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو آنے والے برسوں تک عالمی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس جنگ کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوں گے، لیکن اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ دنیا ممکنہ طور پر ایک نئے علاقائی اور عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دانشمندانہ سفارت کاری، معاشی منصوبہ بندی اور علاقائی تعاون کے ذریعے خود کو ان بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالے۔
جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس جنگ کے بطن سے ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کی سیاست اور معیشت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیں۔