چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں فوری اور پائیدار جنگ بندی پر زور دیا ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی ابتر صورتِ حال پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کی اولین ترجیح جنگ بندی کا مکمل نفاذ اور لڑائی کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر خطے میں ایک ایسے پائیدار اور جامع علاقائی سلامتی ڈھانچے کی بنیاد رکھیں جو مستقل امن کا ضامن ہو۔
عالمی اداروں میں نمائندگی
وانگ یی نے بین الاقوامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کو زیادہ اور مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یوکرین اور غزہ جیسے سنگین بحرانوں کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، بلکہ ان تمام تنازعات کا صرف سیاسی اور سفارتی حل ہی نکالا جانا چاہیے۔
اسرائیل کی ہٹ دھرمی
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید ناراضی اور مخالفت کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کیے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے کیے ہیں جس سے خطے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور عدم استحکام کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
دیکھیے: بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کے لیے امریکہ پاکستان کی حمایت کرے، دی ڈپلومیٹ