افغانستان کے سابق انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کی جانب سے پاکستان کے جوہری اثاثوں کے خلاف پرانے اور فرسودہ بیانیے کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور سیاسی حلقوں نے رحمت اللہ نبیل کو آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں کے قاتلوں کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع پر تنقید کرنا ان کے لیے محض ایک ناکام جسارت ہے۔
اے پی ایس اور رحمت اللہ نبیل
رحمت اللہ نبیل کے دورِ اقتدار میں ہی دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی نے پشاور میں دنیا کے ہولناک ترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک کی منصوبہ بندی کی، جس کے نتیجے میں 130 بچوں سمیت 140 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جس شخص کی نگرانی میں دہشت گردی کے اتنے بڑے نیٹ ورکس کام کرتے رہے، وہ آج کس اخلاقی بنیاد پر پاکستان کی سلامتی پر سوال اٹھا رہا ہے۔
"The question isn't only whether these weapons R secure 2day, but whether the Int’l community can afford 2 ignore the risks tomorrow. Ensuring the safety of PAK's nuclear arsenal is therefore not merely a national issue; it is a matter of global security." https://t.co/GlBtiaiXXQ
— Rahmatullah Nabil (@RahmatullahN) March 5, 2026
اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل
سیاسی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ رحمت اللہ نبیل اسلامی ممالک کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنے کے اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس سے ان کا موساد کے ایک مہرے کے طور پر کردار مزید واضح ہو گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سابق افغان عہدیدار اب بھی 2017 کی فرسودہ سوچ میں قید ہیں، جبکہ دنیا 2026 کے حقائق کے ساتھ آگے بڑھ چکی ہے۔
افغانستان میں حکمرانی کی ناکامی
دفاعی ماہرین کے مطابق گزشتہ دہائی کا اصل سبق پاکستان کے جوہری تحفظ پر نہیں، بلکہ افغانستان میں حکمرانی کی ان ناکامیوں پر ہے جنہوں نے ریاستی اداروں کے انہدام کا راستہ ہموار کیا۔ اسی طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانیے کے باعث افغانستان ایک بار پھر دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے، جبکہ پاکستان ایک مضبوط علاقائی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام
پاکستان کا جوہری دفاعی نظام مکمل طور پر محفوظ، مرکزی کنٹرول میں اور پیشہ ورانہ انداز میں منظم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہائی پرانا پروپیگنڈا دہرانے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ جہاں پاکستان نے اپنے اسٹریٹجک حفاظتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا، وہیں رحمت اللہ جیسے پالیسی سازوں کی وجہ سے دیگر ممالک اپنے اداروں کو بکھرتا دیکھتے رہے۔