افغانستان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے حال ہی میں طلوع نیوز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی، مذاکراتی عمل اور سرحدی صورتحال پر طالبان حکومت کا مؤقف پیش کیا۔ انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلامی امارت افغانستان نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی اور اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور بعد ازاں سعودی عرب کی ثالثی سے کئی مذاکراتی کوششیں بھی کی گئیں۔
ملا یعقوب کے مطابق مذاکراتی عمل اس وقت تعطل کا شکار ہوا جب پاکستان نے مبینہ طور پر تنازع کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل حکومت اس بات کے لیے تیار تھی کہ وہ تحریری طور پر ضمانت دے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، بشرطیکہ پاکستان بھی اسی نوعیت کی یقین دہانی فراہم کرے۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے دوران دورند لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کروانے کی کوشش کی جسے افغانستان نے مسترد کر دیا۔
افغان وزیر دفاع نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پاکستان نے تجارت، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور افغان مہاجرین پر دباؤ کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی ثالثی سے جاری مذاکرات کے دوران طالبان نے رمضان کے مہینے میں خیر سگالی کے طور پر تین پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ ملا یعقوب نے اس تمام صورتحال میں طالبان کے عسکری ردعمل کو دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا آغاز کابل نے نہیں کیا بلکہ یہ پاکستانی حملوں کے ردعمل میں سامنے آیا۔
انٹرویو کے دوران ملا یعقوب نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پاکستان کے عوام یا سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں بلکہ صرف پاکستانی فوجی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ طالبان حکومت اب بھی سنجیدہ ثالثی اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر افغانستان پر حملے جاری رہے تو کابل بھی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کابل کو نشانہ بنایا گیا تو اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہے گا، جو بظاہر ایک جوابی حکمت عملی یا ڈیٹرنس پیغام کے طور پر پیش کیا گیا۔
پاکستانی حکام کا جواب
دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق 2021 کے بعد سے ملک میں ہونے والے سینکڑوں حملوں کے تانے بانے سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری، مساجد اور تعلیمی ادارے بھی نشانہ بن چکے ہیں۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کو منظم انداز میں سرحد پار سے منصوبہ بندی اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، اس لیے ان گروہوں کی موجودگی سے انکار زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میران شاہ میں ہونے والے خودکش حملے نے بھی اس مسئلے کو دوبارہ نمایاں کر دیا، جہاں اطلاعات کے مطابق حملہ آور ایک کم عمر نوجوان تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو انتہا پسند نظریات کے ذریعے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ ان کے تربیتی مراکز اور منصوبہ ساز سرحد پار محفوظ مقامات پر موجود ہوتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور اب سرحد پار دہشت گرد پناہ گاہوں کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اگر افغانستان کی حکومت ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف عسکری نہیں بلکہ ایک بڑے بیانیاتی اور سفارتی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے حل کے لیے دونوں ممالک کو سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔