تہران کے شمالی مضافات میں واقع شہرآن آئل ڈپو میں ہفتہ کی رات اسرائیلی حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں تیل کے ذخائر میں آگ لگ گئی جس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ کے شعلے اور دھواں دیکھا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
قومی ایرانی آئل کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتہ کی رات تہران اور البرز صوبوں میں تیل کی متعدد اہم تنصیبات اور آئل فیلڈز کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں کے باوجود دونوں صوبوں میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور متبادل ذرائع کے ذریعے سپلائی معمول کے مطابق جاری رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں کئی فیول سٹوریج کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ ایک اہم فوجی کارروائی تھی جس کا مقصد ان ایندھن کے ذخائر کو تباہ کرنا تھا جنہیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست استعمال کیا جا رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خطے میں پہلے ہی کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔