قندھار: پاکستان کی جانب سے سرحدی کارروائیوں اور افغان طالبان کو ہونے والے نقصانات کے بعد طالبان قیادت کے اندر اختلافات اور عدم اعتماد بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے پاکستان مخالف کارروائیوں کی کمان اپنے قریبی ساتھی ملا یوسف وفا کے سپرد کر دی ہے اور شمالی افغانستان سے فورسز اور بھاری اسلحہ سرحدی علاقوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جمعے کے روز قندھار میں طالبان قیادت کا ایک اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل ناکامی پر مختلف کمانڈروں کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔ اجلاس کے بعد مبینہ طور پر طالبان سربراہ نے غیر علانیہ طور پر جنگی کارروائیوں کی ذمہ داری ملا یوسف وفا کو سونپ دی۔
اطلاعات کے مطابق ملا یوسف وفا کی قیادت میں قائم خصوصی فورس، جسے شمالی افغانستان میں تشکیل دیا گیا تھا، کو بھی سرحدی محاذ پر شامل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فورس میں جبری بھرتیوں کے ذریعے شامل کیے گئے افراد بھی موجود ہیں اور اس کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں اسلحہ ڈپو تباہ ہونے کے بعد طالبان نے شمالی افغانستان میں تعینات بھاری ہتھیار، ٹینک اور دیگر فوجی سامان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلی کھیپ کے طور پر تخار کے ضلع خواجہ بہاء الدین سے ٹینک اور فوجی سامان کابل منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انہیں پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھیجا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بدخشاں سے بھی بھاری اسلحہ اور فوجی سامان پاکستان کی سرحد کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل طالبان جنوبی افغانستان سے بھی اپنی فورسز اور جنگی سامان پاکستان سے ملنے والی سرحدوں کی طرف منتقل کر چکے ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے افغان طالبان حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھئیے:طالبان گورنر کی سرپرستی میں بدخشاں کی سونے کی کانوں سے ٹی ٹی پی کے لیے بھتہ وصولی کا انکشاف