اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت پاکستان۔ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری تجارت جواد پال، مختلف وزارتوں کے حکام اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور تجارتی حجم میں اضافہ کرنے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے طے شدہ تجارتی پروٹوکولز پر مؤثر عملدرآمد بھی اسی روڈ میپ کے تحت یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے لیے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستہ مختصر اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں علاقائی رابطہ کاری بڑھانے اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی کے نئے مواقع تلاش کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو تیز کیا جائے۔ اس موقع پر ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی و سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
دیکھئیے:اسحاق ڈار کا ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ٹیلیفونک رابطہ