پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا

March 8, 2026

ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے

March 8, 2026

چین نے ایران پر جاری حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی سخت مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے

March 8, 2026

بھارت نے واضح کیا ہے کہ روسی خام تیل کی خریداری کے لیے اسے امریکا یا کسی اور ملک کی اجازت درکار نہیں اور روس بدستور بھارت کا سب سے بڑا خام تیل سپلائر ہے

March 8, 2026

اردو روزنامہ ندائے مشرق کے چیف ایڈیٹر عبدالرشید شاہ کے انتقال پر محکمہ اطلاعات کشمیر کے ملازمین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

March 8, 2026

ٹرمپ کی پالیسیوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے وہیں عالمی سیاست میں نئے بلاکس بننے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

March 8, 2026

اجمل سہیل کو سیکیورٹی تجزیہ کار کے طور پر پیش کرنے پر سوالات، پاکستان مخالف بیانیے کی کوششوں کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے
پاکستان کے خلاف انڈیا اسرائیل کی سازش

ادارتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مبصر کی سیاسی یا نظریاتی وابستگی کو واضح کیا جائے۔ اس سے قارئین کو معلومات کو درست تناظر میں پرکھنے میں مدد ملتی ہے۔

March 8, 2026

اسلام آباد: ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمل سہیل دراصل افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں جسے بعض حلقے موساد سے منسلک سیاسی پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی صحافی سدھا رام چندرن نے جریدے دی ڈپلومیٹ کے لیے اجمل سہیل کا انٹرویو کیا۔ اس میں انہوں نے آئی ایس آئی، چین اور داعش خراسان (ISKP) سے متعلق تبصرہ کیا۔

تاہم رپورٹ میں یہ اہم حقیقت شامل نہیں کی گئی کہ اجمل سہیل افغان لبرل پارٹی کے بانی بھی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس جماعت کو افغانستان میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر کو چھپانا قارئین کو تجزیے کے اصل زاویے سے بے خبر رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجمل سہیل نے 2013 میں اسرائیلی ادارے اسرائیل انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل فارن پالیسیز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
“اسرائیل افغانستان کا دشمن نہیں۔ افغانستان اسرائیل کے ساتھ تجارت کا مخالف نہیں۔ دونوں کو یہ عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھانا چاہیے۔”

اسی انٹرویو میں انہوں نے فلسطین۔اسرائیل تنازع پر کہا:
“یہ تنازع زیادہ تر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ اس کا افغانستان پر براہ راست جغرافیائی یا معاشی اثر نہیں پڑتا۔”

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں کچھ حلقے اسرائیل کو ممکنہ اتحادی سمجھتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بعض بھارتی حلقوں کی جانب سے اجمل سہیل کو بطور سیکیورٹی تجزیہ کار پیش کرنا ایک منظم معلوماتی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دینا بتایا جا رہا ہے۔

میڈیا مبصرین کے مطابق جب خطے کی حساس سیاست، خفیہ اداروں اور شدت پسند تنظیموں جیسے موضوعات زیر بحث ہوں تو ذرائع کے پس منظر کو واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بصورت دیگر قاری کے لئے پیش کیا گیا تجزیہ مکمل تناظر میں سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مبصر کی سیاسی یا نظریاتی وابستگی کو واضح کیا جائے۔ اس سے قارئین کو معلومات کو درست تناظر میں پرکھنے میں مدد ملتی ہے۔

دیکھئیے:امریکی صدر کی دھمکی کے بعد اسرائیل نے تہران میں تیل کی اہم تنصیبات پر بڑے حملے کر دیے

متعلقہ مضامین

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا

March 8, 2026

چین نے ایران پر جاری حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی سخت مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے

March 8, 2026

بھارت نے واضح کیا ہے کہ روسی خام تیل کی خریداری کے لیے اسے امریکا یا کسی اور ملک کی اجازت درکار نہیں اور روس بدستور بھارت کا سب سے بڑا خام تیل سپلائر ہے

March 8, 2026

اردو روزنامہ ندائے مشرق کے چیف ایڈیٹر عبدالرشید شاہ کے انتقال پر محکمہ اطلاعات کشمیر کے ملازمین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

March 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *