احمد مسعود کا یہ بیان افغانستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے میں ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں بلکہ طالبان کی موجودہ حکمرانی کی نوعیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا ہے ہے کہ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقے نے بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ دی، اس کا خمیازہ عام افغان عوام کو بھگتنا پڑا۔ آج جیسا کہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 کے قریب دہشت گرد گروہ کابل اور دیگر علاقوں میں فعال ہیں، یہ صورتحال محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ عسکریت پسند گروہ نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود افغان معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔
صعوبت بھری زندگی
احمد مسعود نے بجا طور پر یہ ذکر کیا ہے کہ افغانستان اب اپنے ہی عوام کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں، اظہارِ رائے کی آزادی کے سلب ہونے اور معاشی بدحالی نے افغان شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس صورتحال میں، طالبان کی حکمرانی کو ‘دہشت گردوں کے لیے جنت’ اور ‘عوام کے لیے قید خانہ’ کے دو متضاد بیانیوں کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
نفرت اور جارحیت
اس بیان کا سب سے اہم پہلو احمد مسعود کی جانب سے ‘احتیاط اور ذمہ داری’ کا پیغام ہے۔ وہ طالبان کے اقدامات سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ریاست یا قوم کے خلاف نفرت میں بدلنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کی مخالفت میں جارحیت پر نہیں، بلکہ اس تفریق کو سمجھنے پر منحصر ہے کہ “طالبان کی پالیسیاں” اور “افغان قوم کی بقا” دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کا یہ موقف خطے کے ان تمام ممالک کے لیے ایک بصیرت ہے جو طالبان کے رویے سے نالاں ہیں لیکن افغانستان کی سالمیت کو بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک طالبان اقتدار بین الاقوامی اصولوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ڈھلے گا، افغانستان کا سفارتی اور معاشی بحران برقرار رہے گا۔ احمد مسعود کی یہ تنبیہ ایک ایسے سیاسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتی ہے جہاں نفرت کے بجائے مکالمے اور انتہا پسندی کے بجائے سماجی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔