وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتیں کم ہونے پر عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔

June 17, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کہا ہے کہ امریکا اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان اور چین کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔

June 17, 2026

امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث پاکستان اور خطے کی سکیورٹی پر دباؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

June 17, 2026

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 5903 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، جس میں تنخواہیں 7 اور پنشن 3.5 فیصد بڑھائی گئی ہے۔

June 17, 2026

خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نے کوہاٹ اور شبقدر میں کاروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 6 مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

June 17, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق 2022 سے اب تک دہشت گردی میں 4,317 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ افغان حکومت نے عسکریت پسندوں کی آبادکاری کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے۔

June 17, 2026

افغانستان دہشت گردوں کی جنت اور عوام کے لیے قید خانہ بن چکا ہے: احمد مسعود

احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے
احمد شاہ مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے،

احمد مسعود نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو طالبان کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 200 سے زائد دہشت گرد گروہ فعال ہیں، جس نے خطے کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں

March 9, 2026

احمد مسعود کا یہ بیان افغانستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے میں ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں بلکہ طالبان کی موجودہ حکمرانی کی نوعیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا ہے ہے کہ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقے نے بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ دی، اس کا خمیازہ عام افغان عوام کو بھگتنا پڑا۔ آج جیسا کہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 کے قریب دہشت گرد گروہ کابل اور دیگر علاقوں میں فعال ہیں، یہ صورتحال محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ عسکریت پسند گروہ نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود افغان معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔

صعوبت بھری زندگی

احمد مسعود نے بجا طور پر یہ ذکر کیا ہے کہ افغانستان اب اپنے ہی عوام کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں، اظہارِ رائے کی آزادی کے سلب ہونے اور معاشی بدحالی نے افغان شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس صورتحال میں، طالبان کی حکمرانی کو ‘دہشت گردوں کے لیے جنت’ اور ‘عوام کے لیے قید خانہ’ کے دو متضاد بیانیوں کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

نفرت اور جارحیت

اس بیان کا سب سے اہم پہلو احمد مسعود کی جانب سے ‘احتیاط اور ذمہ داری’ کا پیغام ہے۔ وہ طالبان کے اقدامات سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ریاست یا قوم کے خلاف نفرت میں بدلنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کی مخالفت میں جارحیت پر نہیں، بلکہ اس تفریق کو سمجھنے پر منحصر ہے کہ “طالبان کی پالیسیاں” اور “افغان قوم کی بقا” دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کا یہ موقف خطے کے ان تمام ممالک کے لیے ایک بصیرت ہے جو طالبان کے رویے سے نالاں ہیں لیکن افغانستان کی سالمیت کو بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک طالبان اقتدار بین الاقوامی اصولوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ڈھلے گا، افغانستان کا سفارتی اور معاشی بحران برقرار رہے گا۔ احمد مسعود کی یہ تنبیہ ایک ایسے سیاسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتی ہے جہاں نفرت کے بجائے مکالمے اور انتہا پسندی کے بجائے سماجی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتیں کم ہونے پر عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔

June 17, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کہا ہے کہ امریکا اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان اور چین کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔

June 17, 2026

امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث پاکستان اور خطے کی سکیورٹی پر دباؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

June 17, 2026

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 5903 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، جس میں تنخواہیں 7 اور پنشن 3.5 فیصد بڑھائی گئی ہے۔

June 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *