عالمی سیاست کو اگر شطرنج کی بساط کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو، کیونکہ یہاں ہر چال کے پیچھے طاقت، مفاد اور حکمت عملی کی کئی پرتیں چھپی ہوتی ہیں۔ اقتدار کی ہر تبدیلی محض ایک داخلی واقعہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کو نئی بحثوں اور خدشات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جنگی حالات میں قیادت کی تبدیلی ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور ایران جیسے نظریاتی اور انقلابی نظام میں یہ تبدیلی مزید گہرے اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی کے ساتھ ہی دنیا بھر کے سیاسی حلقوں میں سوال اٹھنے لگے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد ایران کی سیاست، خطے کا امن اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کس رخ اختیار کرے گی۔
ایران کے نظامِ ولایتِ فقیہ میں سپریم لیڈر کو محض سیاسی سربراہ نہیں بلکہ ریاستی اور نظریاتی نظام کا محور سمجھا جاتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس نظام کے اندر کوئی اجنبی نام نہیں۔ قم کے مذہبی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اس نسبتاً سخت گیر عالم کو برسوں سے اپنے والد کے قریب ترین ساتھی اور مشیر کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب سے وابستگی اور بعد ازاں بسیج ملیشیا کے ساتھ ان کا کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ صرف مذہبی حلقوں ہی نہیں بلکہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہی تعلقات اس وقت ان کے اقتدار تک پہنچنے کا سب سے بڑا سہارا بنے جب پاسدارانِ انقلاب کی حمایت سے مجلسِ خبرگان نے جنگی ماحول میں قیادت کے تسلسل کو ترجیح دیتے ہوئے انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔ ناقدین اسے ایران کے اندر طاقت کے ارتکاز اور نظام کے تحفظ کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کو داخلی استحکام اور بیرونی دباؤ کے مقابلے کیلئے مضبوط قیادت درکار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل خاصا سخت اور معنی خیز رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک “کمزور شخصیت” قرار دیا اور یہاں تک اشارہ دیا کہ اگر انہیں عالمی سطح پر قبولیت نہ ملی تو ان کی قیادت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انجام بھی ان کے والد جیسا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انہیں براہِ راست “خاتمے کا ہدف” قرار دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کی ہے۔ ان بیانات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی اب بھی ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کرنے یا تبدیل کرنے کے گرد گھوم رہی ہے، اور وہ قیادت کی تبدیلی کو اپنے مقاصد کیلئے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کا ردعمل بھی اس صورتحال میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت خلیجی ریاستوں نے ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی اور اسے خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دیا۔ اگرچہ ان ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کرنے اور دفاعی نظام فعال کرنے جیسے اقدامات کئے، تاہم انہوں نے فوری طور پر ایران کے خلاف براہِ راست جنگی کارروائی سے گریز کیا۔ یہ رویہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے ممالک ایک ایسی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پڑوسی ممالک سے معذرت اور کشیدگی کم کرنے کے اشارے بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلم دنیا ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کا مستقبل کیا ہوگا؟ ماہرین کے مطابق ان کی حکمت عملی “مزاحمتی استحکام” پر مبنی ہو سکتی ہے جس میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار مزید مضبوط ہوگا، میزائل پروگرام اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت جاری رہے گی اور ممکن ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو بھی تیز کرے تاکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ دوسری طرف ایران کو اندرونی سطح پر شدید معاشی مشکلات، مہنگائی اور نوجوان نسل کی بے چینی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اگر یہ مسائل شدت اختیار کرتے ہیں تو نظام کے اندر اختلافات اور عوامی احتجاج بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ یوں ایران ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے نظام کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور دوسری طرف داخلی دباؤ اس استحکام کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔
درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ طاقت کے توازن اور مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا تزویراتی چیلنج سمجھتے ہیں، جبکہ ایران اپنے دفاع اور نظریاتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ یہی کشمکش خطے کو مسلسل کشیدگی کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔ اس صورتحال میں اگر کوئی حقیقت سب سے نمایاں ہے تو وہ یہ کہ طاقت کی سیاست میں فیصلے ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملی اور عوامی استحکام سے طے ہوتے ہیں۔
ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا قیادت کی یہ تبدیلی خطے میں مزید تصادم کو جنم دے گی یا کوئی نیا توازن پیدا کرے گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا بوجھ اٹھا رہی ہے
ہوا مخالف ہو تو چراغوں کا جلنا مشکل ہوجاتا ہے
اگر طاقت کی یہ کشمکش اسی طرح جاری رہی تو اس کے اثرات نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن پر مرتب ہوں گے۔دانشمند بجا کہتے ہیں کہ جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف دشمن نہیں بلکہ پورا خطہ آ جاتا ہے۔ اب یہ فیصلہ مفید ہے یا مضر یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، طاقت کے کھیل میں فوری نتائج کم ہی نکلتے ہیں اور اکثر فیصلے وقت کی کسوٹی پر ہی اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں
دیکھئیے:ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ نجی زندگی اور سیاسی سفر پر ایک نظر