افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز کے حوالے سے حالیہ تنازع نے بین الاقوامی انسانی قوانین اور شہری انفراسٹرکچر کے عسکری استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ طالبان انتظامیہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک فضائی حملے میں بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، تاہم آزادانہ قانونی تشخیص اس کے برعکس حقائق پیش کر رہی ہے۔
عسکری استعمال اور قانونی حیثیت
رپورٹ کے مطابق اس مقام کی قانونی تشخیص اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ مرکز کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے ضوابط کے تحت، کوئی بھی سویلین عمارت یا مرکز اس وقت اپنی ‘محفوظ حیثیت’ کھو دیتا ہے جب اسے براہِ راست عسکری کارروائیوں یا دفاعی مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے جنگی قوانین کے تحت سویلین تنصیبات کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
عالمی قوانین کے تحت ذمہ داری کا تعین
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی سویلین تنصیب کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے، تو وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ‘جنگی ہدف’ بن سکتی ہے۔ اس تناظر میں، کابل کی اس عمارت کا عسکری استعمال نہ صرف سویلین آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہے، جو شہری آبادی کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکتی ہے۔