پاکستان نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 16.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے اور سری لنکا جیسے معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت نے ایندھن پر بھاری سبسڈی دینے کے بجائے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دی، کیونکہ بڑی سبسڈیز مالی خسارہ بڑھا کر زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر سکتی ہیں۔
پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مصنوعی طور پر کم قیمتیں برقرار رکھنے سے اربوں ڈالر کی سبسڈی دینا پڑتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں بھی طویل عرصے تک سبسڈی اور ٹیکس میں کمی نے معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا، جس کے نتیجے میں 2022 میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف 50 ملین ڈالر تک گر گئے تھے۔
اس بحران کے دوران سری لنکا میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوئی جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ پالیسی کا مقصد وقتی طور پر سستا ایندھن فراہم کرنے کے بجائے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے تاکہ درآمدات، زرمبادلہ ذخائر اور مجموعی معاشی استحکام کو تحفظ مل سکے۔
دیکھئیے:عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ