پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

سستا ایندھن یا معاشی استحکام؟ پاکستان نے سنگین بحران سے بچنے کیلئے مشکل فیصلہ کیا

پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے
حکومت نے معاشی استحکام کو قیمتوں پر تجیح دی

حکومت نے ایندھن پر بھاری سبسڈی دینے کے بجائے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دی، کیونکہ بڑی سبسڈیز مالی خسارہ بڑھا کر زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر سکتی ہیں۔

March 9, 2026

پاکستان نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 16.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے اور سری لنکا جیسے معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت نے ایندھن پر بھاری سبسڈی دینے کے بجائے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دی، کیونکہ بڑی سبسڈیز مالی خسارہ بڑھا کر زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر سکتی ہیں۔

پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مصنوعی طور پر کم قیمتیں برقرار رکھنے سے اربوں ڈالر کی سبسڈی دینا پڑتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں بھی طویل عرصے تک سبسڈی اور ٹیکس میں کمی نے معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا، جس کے نتیجے میں 2022 میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف 50 ملین ڈالر تک گر گئے تھے۔

اس بحران کے دوران سری لنکا میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوئی جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ پالیسی کا مقصد وقتی طور پر سستا ایندھن فراہم کرنے کے بجائے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے تاکہ درآمدات، زرمبادلہ ذخائر اور مجموعی معاشی استحکام کو تحفظ مل سکے۔

دیکھئیے:عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *