ملک پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے ‘آپریشن غضب للحق’ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے انتہائی درست فضائی کاروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا دائرہ کار کابل سے لے کر قندھار اور پکتیا تک پھیلا ہوا تھا، جس کے دوران دہشت گردوں کے اہم مراکز اور ان کی تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
آپریشن کے دوران کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود کے ایک اہم ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قندھار کے علاقے تراوو میں قائم دہشت گردوں کے مرکزی تربیتی کیمپ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح قندھار میں ایئر فیلڈ کے قریب واقع آئل اسٹوریج سائٹ اور اس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بھی مکمل طور پر خاک میں ملا دیا گیا۔ صوبہ پکتیا کے علاقے شیرِ نو میں بھی دہشت گردوں کے ایک اہم کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جو سرحد پار پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ایک کلیدی مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
اس آپریشن کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسی کو دوٹوک کر دیا ہے اور اب کسی قسم کے مذاکرات یا وفود کے تبادلے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو ایک ہی پیغام دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت اور ان کی قیادت کو پناہ دینے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے، بصورتِ دیگر اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ یہ کاروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تقدس اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہے۔
‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت جاری یہ کاروائیاں اہداف کے حصول تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔ عسکری ماہرین کے مطابق، ان ٹارگٹڈ حملوں کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر غیر فعال کرنا اور سرحد پار سے پاکستان کو نشانہ بنانے والے عناصر کی کمر توڑنا ہے۔ ان کاروائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خفیہ معلومات کی بنیاد پر کسی بھی علاقے میں آپریشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔