مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران دو امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا خطے میں مزید فوجی اور جنگی جہاز تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نئی کمک کی قیادت جاپان میں تعینات جنگی جہاز ‘یو ایس ایس ٹریپولی’ کرے گا۔ اس یونٹ میں عام طور پر 5,000 کے قریب فوجی شامل ہوتے ہیں جو مختلف جنگی جہازوں کے ذریعے خطے میں پہنچیں گے۔ پینٹاگون نے معمول کے مطابق فوجیوں کی نقل و حرکت پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی موجودگی میں یہ اضافہ اہم تزویراتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خرج جزیرے پر امریکی بمباری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خرج جزیرے پر انتہائی تباہ کن فضائی کاروائی کی ہے، جس میں تمام فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس کارروائی میں جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم انہوں نے تہران کو سخت انتباہ جاری کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حمل میں مداخلت کی گئی تو ایران کی آئل تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔
ٹرمپ کا تہران کو انتباہ
امریکی صدر نے ایران کو واضح انداز میں کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خواب ترک کر دے اور کہا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کو انتہائی موثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ایرانی فوج اور حکومت کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے ملک کو بچائیں۔
مزید برآں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے امریکی نیوی جلد وہاں گشت شروع کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے مقاصد میں کچھ تضادات ہو سکتے ہیں، تاہم خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔