اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کے بعد گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ یہاں تعینات ججز کو دیگر صوبائی ہائی کورٹس میں منتقل کیا جائے گا۔ اسلام آباد بار کے وکلاء کا یہ دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی ایک مستقل بندوبست نہیں ہونی چاہیے تاکہ ایک ہی اسٹیشن پر طویل قیام سے پیدا ہونے والے گروہ بندی اور جمود کے تاثر کو ختم کیا جا سکے۔
پاکستان کی دیگر صوبائی ہائی کورٹس میں ججز کی روٹیشن ایک معمول کا حصہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ججز راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور بینچز میں فرائض انجام دیتے ہیں، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے ججز ایبٹ آباد، مینگورہ، بنوں اور ڈی آئی خان بینچز میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس میں بھی ججز کو مختلف بینچز پر ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی طرز کے بینچز موجود نہیں، اس لیے یہاں روٹیشن کے مقصد کے لیے ٹرانسفر کا آئینی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
آئینی طریقہ کار اور آزاد عدلیہ کا تحفظ
عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ججز کی ٹرانسفر یا روٹیشن کوئی غیر معمولی اقدام نہیں بلکہ یہ عدالتی نظام میں توازن، ادارہ جاتی شفافیت اور بہتر انتظامی تقسیم کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے۔ اس معاملے کو آزاد عدلیہ پر حملہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ آئینی طریقہ کار کے تحت متعلقہ فورمز، وکلا اور ججز کی رائے کی روشنی میں کیا جائے گا۔
جسٹس بابر ستار کا مؤقف
جسٹس بابر ستار کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ انہیں سنے بغیر ان کی ٹرانسفر نہیں کی جا سکتی۔ تاہم آئین کا آرٹیکل 200(1) اس حوالے سے واضح ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے لیے کسی جج کو لازمی طور پر سننا شرط نہیں ہے۔ اگر کمیشن مناسب سمجھے تو متعلقہ جج کو بلا سکتا ہے، لیکن اسے قانونی مجبوری قرار دینا آئینی طریقہ کار کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔
نتائج اور اثرات
ججز کی ٹرانسفر عملی طور پر ہو یا نہ ہو، اس بحث نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طویل عرصے سے قائم جمود اور مستقل تعیناتی کے رواج کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کسی شخصیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ادارہ جاتی توازن اور عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔