شیعہ اور دیوبندی مکتب فکر کے لوگ پاکستان میں بھی ہی اور بھارت میں بھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں ان دونوں کا رویہ اور ہوتا ہےلیکن پاکستان میں ان کا رویہ اور ہو جاتا ہے۔ بھارت میں یہ ریشم کی طرح نرم ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ فولاد کی شمشیر بنے پھرتے ہیں ۔ بھارت میں یہ ایسے رہتے ہیں جیسے خواب میں واؤ معدولہ ، جس کے ہونے یا نہ ہونے کا کچھ پتا نہیں چلتا لیکن پاکستان میں یہ لہو گرم رکھنے کے جھپٹتے ۔ پلٹتے اور پلٹ کر جھپٹتے ہیں تو ہر شے سہم جاتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کو دیکھ لیجیے ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایران کی ہر ممکن سفارتی مدد کی ، ایران پر حملے کی مذمت کی ، ، یہاں تک خود ایرانی پارلیمان میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے ، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ، حکومت کو لعن طعن کی گئی ، املاک جلائی گئیں ، اقوام متحدہ کے دفتر کو نذر آتش کیا گیا ، امریکی سفارت خانے میں لوگ جا گھسے ، سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا ، دھمکیاں دی گئیں کہ خبردار پاکستان نے ذلت کی حد کراس کر لی ہے مزید کچھ کیا تو ہم یہ کر دیں اور وہ کر دیں گے ، ہم فلاں اور فلاں اہداف کو نشانہ بنائیں گے وغیرہ وغیرہ۔
دوسری طرف بھارت ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کا دفتر خارجہ واضح اعلان کر رہا ہے کہ اس کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ ہیں ۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران کو بھارت نے دھوکہ دیا۔ حتی کہ بھارت نے ایران پر حملے کی باقاعدہ دھمکی بھی دی ۔ لیکن اس کے باوجود بھارت میں اہل تشیع نے کوئی پرتشدد مظاہرہ نہیں کیا۔ حتی کہ لکھنئو جیسے مرکز میں بھی نہیں۔ وہاں اقوام متحدہ کا کوئی دفتر نہیں جلایا گیا۔ وہاں کسی نے نہیں فرد جرم عائد نہیں کی کہ بھارت ذلت کی حدوں کو کراس کر گیا ہے ، وہاں کسی نے رجز نہیں پڑھے کہ مودی سرکار تم نے ایران پر حملے کی کوشش کی تو ہم تمہارے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے۔ وہاں کسی نے بھارت کے سیکیورٹی اہلکاروں کو زندہ نہیں جلایا ، جلانا تو دور کی بات کسی نے ان پر کہیں پتھراؤ تک نہیں کیا ۔ وہاں کوئی جلوس امریکی سفارت خانے میں نہیں گھسا ۔ وہاں کسی نے نہیں کہا کہ سنگھ پریوار نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو ہم فلاں اور فلاں اہداف کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوں گے۔
یعنی پاکستان کو اپنی ساری خیر خواہی کے باوجود امان نہیں اور بھارت کے لیے اس کی سارے شر پسندی کے باوجود امان ہی امان ہے ۔ پاکستان اقوام متحدہ میں ایران کی حمایت کرنے کے باوجود کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے لیکن بھارت واضح طور پرا سرائیل کے ساتھ کھڑا رہتا ہے مگر وہاں کوئیا س کے خلاف تعزیر کے دو لفظ نہیں بول سکتا۔ اس تضاد کی وجہ کیا ہے؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔
یہی معاملہ دیوبند مکتب فکر کا ہے۔ بھارت میں یہ مکتب فکر ” چوں” تک نہیں کرتا لیکن پاکستان میں یہ ہر دم للکار رہا ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ مکتب فکر افغانستان کے حکمرانوں سے اپنی فکری وابستگی میں اس حد تک آگے چلا جاتا ہے کہ ہر وقت پاکستان کی پالیسی کو سینگوں پر لیے رکھتا ہے لیکن بھارت میں اس کی جرات نہیں کہ یہ منمناتے ہوئے بھی مودی سرکار کی خارجہ پالیسی سے کوئی اختلاف کر سکے۔
دیبند کے جس علاقے میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کھڑے ہو کر بی جے پی کا برجیش سنگھ کہتا ہے کہ ہم بہت جلد اس علاقے کا نام دیوبند سے بدل کر’دیو ورند‘ رکھ دیں گے لیکن دیوبند مکتب فکر نہ احتجاج کرتا ہے نہ دلی کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر پاتا ہے لیکن پاکستان میں ہر وقت یہ رجز پڑھتا پایا جاتا ہے۔ معاملہ کیا ہے؟
پاکستان میں یہ مکتب فکر حافظ حمد اللہ جیسے شاہینوں کی شعلہ بیانی سے لطف اندوز ہوتا ہے لیکن بھارت میں اسی مکتب فکر کے پاس کوئی فاختہ بھی نہیں ہوتی کہ مودی جی سے سریلے نغموں میں ہی کوئی اختلاف کر سکے۔
پاکستان میں عالم یہ ہے کہ جے یو آئی کے لیے جو بھی فرد کسی بھی درجے میں چیلنج بنتا نظر آئے وہ کھڑے کھڑے یہودی ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ حتی کہ مولانا شیرانی جے یو آئی سے راستے الگ کریں تو ان پر ’جمعیت علمائے اسرائیل‘ کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ دوسری جانب بھارت کے اہل دیوبند ہیں، خوف نے جن کی قوت گویائی تک سلب کر رکھی ہے۔ ووہ بی جے پی کے سیوم سیوکوں کے حضور کسی گستاخی کا تصور تک نہیں کر سکتے۔
۔
پاکستان کے مولانا تو ہر حکمران اور اسٹیبلشمنٹ سمیت امریکہ اور روس کو بھی للکار لیتے ہیں لیکن بھارت کے مولانا بی جے پی کی فسطائیت پر بھی زبان نہیں ہلا پاتے۔ پاکستان کی دیوبندیت عزیمت اور للکار ہے تو بھارت میں یہ نری فدویت اور بے بسی ہے، جو ہر دم ہاتھ باندھے نیک چلنی کی یقین دہانیاں کراتی پائی جاتی ہے
پاکستان میں جے یو آئی کے اراکین پارلیمنٹ لاجز میں گرفتار ہو جائیں تو مولانا اپنے جاہ و جلال کے ساتھ آ پہنچتے ہیں کہ ’اب ہمت ہے تو مجھے بھی گرفتار کرو‘ اور دیوبند کے ضلع سہارن پور میں دارالعلوم کے طلبہ کو بسوں سے اتار کر ان کے سر مونڈ دیے جائیں یا مسلمانوں کے لیے زندگی اجیرن ہو جائے، تحریک دیوبند نیاز مندانہ احتجاج سے آگے نہیں بڑھتی۔
پاکستان میں یہ افغان طالبان کے اساتذہ میں شمار کیا جانا باعث شرف سمجھتے ہیں، بھارت میں دارالعلوم وضاحتیں پیش کرتا پھرتا ہے کہ ہمارا طالبان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں، ہم تو مسکین سے سیکولرسے لوگ ہیں۔
جس طنطنے کا مظاہرہ یہ دونوں مکاتیب فکر پاکستان میں صبح شام کرتے ہیں ، اس طنطنے کا مظاہرہ کبھی بھارت میں بھی تو کر کے دکھائیں۔
اگر گرجنے ، برسنے ، للکارنے کی یہ سہولت صرف پاکستان میں موجود ہے تو پھر اس ملک کی قدر بھی تو کریں۔ اتنی ناقدری اچھی نہیں ہوتی۔