موجودہ سیکیورٹی بحران اور اس سے پہلے پیش آنے والے بیشتر علاقائی بحرانوں کی بنیادی وجہ افغانستان میں طالبان کی پالیسیاں قرار دی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی حکمت عملی نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت پر طویل عرصے سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ مختلف شدت پسند تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے رہے ہیں۔ ان گروہوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل، تاجکستان کی تنظیم انصاراللہ اور القاعدہ جیسے نیٹ ورکس کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان تنظیموں کی موجودگی نے افغانستان کو علاقائی سیکیورٹی تنازعات کا مرکز بنا دیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سرحدی تنازعات کو جنم دیا بلکہ افغانستان کو بڑی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے درمیان جاری جیوپولیٹیکل کشمکش کا حصہ بھی بنا دیا۔
سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال کو بھی انہی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر افغانستان کی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے نہ روکا گیا تو یہ صورتحال مستقبل میں مزید بڑے سیکیورٹی بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔