بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن کیا بلوچ نے صحافی حامد میر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر تصدیق کے دعوے کرنا سینئر صحافیوں کے شایانِ شان نہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان میں حکمرانی اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل نے بعض مقامی افراد کو مسلح کارروائیوں اور اغوا جیسے اقدامات کی طرف دھکیل دیا ہے۔
کیا بلوچ نے مزید کہا کہ جب ریاستی ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کرتے تو بعض علاقوں میں لوگ اپنے دفاع کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
دوسری جانب بعض حلقوں نے اس بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح گروہوں کی کارروائیوں کو کسی بھی صورت میں جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
میر صاحب، ایسی چھوٹی اور غیر مصدقہ باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔ اگر آپ کو یہ بات اٹھانی ہی تھی تو یہ بھی پوچھ لیتے کہ بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہے یا نہیں؟ سیکیورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے دفاع کے لیے خود بندوق اٹھانے اور اغوا جیسے اقدامات پر اتر آئے ہیں؟ https://t.co/DXyOyHPQi6
— Kiyya Baloch (@KiyyaBaloch) March 14, 2026
ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف تنظیموں کی جانب سے ٹرکوں کو جلانے، بھتہ خوری اور اغوا جیسی کارروائیاں خطے میں بدامنی کو بڑھا رہی ہیں اور ایسے اقدامات کی کھل کر مذمت ہونی چاہیے۔
مبصرین کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
دیکھئیے:بلوچستان میں مستقل امن کے لیے مذہبی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے: قومی پیغامِ امن کمیٹی کا کوئٹہ میں اعلان