اسلام آباد: افغانستان میں سنگین معاشی بحران نے کروڑوں شہریوں کو فاقہ کشی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ملک کی فی کس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً چار فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ غربت کی لکیر نے ملک کی نصف سے زائد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، افغانستان کی معیشت اب بھی مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کر رہی ہے اور اسے عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔ ملک کے 15 سے 24 ملین کے درمیان افراد انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ 17 ملین سے زائد افراد کو زندہ رہنے کے لیے فوری ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ان تباہ کن حقائق کے برعکس طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں معاشی بہتری کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے یہ دعوے زمینی حقائق کے یکسر منافی ہیں کیونکہ ملکی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے اور عام شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغان عوام کی یہ بدحالی محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ طالبان کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انتہا پسند گروہوں سے غیر فطری وابستگی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی نے افغانستان کو غربت اور تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی نظریاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جس کی بھاری قیمت افغان معیشت اور عوام کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان عوام اس ظلم اور بھوک کے مستحق نہیں ہیں۔ افغانستان کی ترقی کا انحصار دہشت گردی کی سرپرستی کے خاتمے، امن کی بحالی، اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔
دیکھئیے:آسٹریا کا ازبکستان کے راستے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ