سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

May 1, 2026

ہم نے ایران سے بات چیت کی ہے لیکن حالات ٹھیک نظر نہیں آ رہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں اس پیشرفت سے خوش نہیں ہوں

May 1, 2026

افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

May 1, 2026

جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے

May 1, 2026

طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

May 1, 2026

اداکارہ نے بتایا کہ ان کے گھر کا ماحول مختلف ہے جہاں ان کی والدہ ہندو اور والد مسلمان ہیں، لیکن وہ خود اپنے مذہب کی پابندی کرتی ہیں۔

May 1, 2026

افغانستان میں غربت کا بحران: 2025 میں فی کس پیداوار میں 4 فیصد کمی، لاکھوں افراد امداد کے محتاج

افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
افغان غریب عوام

May 1, 2026

اسلام آباد: افغانستان میں سنگین معاشی بحران نے کروڑوں شہریوں کو فاقہ کشی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ملک کی فی کس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً چار فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ غربت کی لکیر نے ملک کی نصف سے زائد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، افغانستان کی معیشت اب بھی مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کر رہی ہے اور اسے عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔ ملک کے 15 سے 24 ملین کے درمیان افراد انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ 17 ملین سے زائد افراد کو زندہ رہنے کے لیے فوری ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب، ان تباہ کن حقائق کے برعکس طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں معاشی بہتری کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے یہ دعوے زمینی حقائق کے یکسر منافی ہیں کیونکہ ملکی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے اور عام شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، افغان عوام کی یہ بدحالی محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ طالبان کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انتہا پسند گروہوں سے غیر فطری وابستگی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی نے افغانستان کو غربت اور تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی نظریاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جس کی بھاری قیمت افغان معیشت اور عوام کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان عوام اس ظلم اور بھوک کے مستحق نہیں ہیں۔ افغانستان کی ترقی کا انحصار دہشت گردی کی سرپرستی کے خاتمے، امن کی بحالی، اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔

دیکھئیے:آسٹریا کا ازبکستان کے راستے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

May 1, 2026

ہم نے ایران سے بات چیت کی ہے لیکن حالات ٹھیک نظر نہیں آ رہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں اس پیشرفت سے خوش نہیں ہوں

May 1, 2026

جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے

May 1, 2026

طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *