کمیشن کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے باعث ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
کمیشن نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اسلحے کی فروخت اور تجارتی روابط کو مذہبی آزادی کی صورتحال سے مشروط کرے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ قوانین کے تحت پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان رہنماؤں پر عائد کردہ پابندیوں کے نظام میں ترمیم کرتے ہوئے 22 رہنماؤں کے ریکارڈز میں تبدیلیاں کر دیں، تاہم پابندیاں بدستور برقرار ہیں