اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے طالبان رہنماؤں کی پابندیوں کی فہرست میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔
10 مارچ 2026 کو جاری مراسلے کے مطابق پابندیوں کی فہرست میں شامل 100 سے زائد طالبان رہنماؤں میں سے 22 افراد کی تفصیلات اپڈیٹ کی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ ان ترامیم سے پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں آئی۔
تمام افراد پر بدستور عالمی سفری پابندیاں، اثاثوں کی منجمدی اور اسلحہ کی فراہمی پر پابندی برقرار ہے۔
نئی فہرست کے مطابق طالبان سفارت خانے متحدہ عرب امارات کے تھرڈ سیکرٹری عزیز الرحمن عبدالاحاد کا نام پہلی بار پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ فہرست میں شامل کم از کم 39 طالبان رہنماؤں اور ارکان کے نام نکال دیے گئے ہیں۔
فہرست سے نکالے جانے والے نمایاں افراد میں طالبان ہلال احمر کے سربراہ شہاب الدین دلاور، وزارت خارجہ کے سیاسی نائب شیر محمد عباس ستانکزئی، شہری ترقی و ہاؤسنگ کے قائم مقام وزیر حمد اللہ نعمانی، وزارت دفاع کے پہلے نائب حمید اللہ اخند شیر محمد اور سرحدی و قبائلی امور کے قائم مقام وزیر نور اللہ نوری شامل ہیں۔
دیگر افراد میں ہیبت اللہ اخوندزادہ کے مالی مشیر جان محمد مدنی اکرم، حقانی نیٹ ورک کے سینئر رکن یحییٰ حقانی، سراج الدین حقانی کے سینئر مشیر شمس الرحمان اور حقانی نیٹ ورک سے منسلک مشیر محمد طاہر انوری بھی شامل ہیں۔
𝗨𝗡 𝗦𝗲𝗰𝘂𝗿𝗶𝘁𝘆 𝗖𝗼𝘂𝗻𝗰𝗶𝗹 𝗨𝗽𝗱𝗮𝘁𝗲𝘀 𝗧𝗮𝗹𝗶𝗯𝗮𝗻 𝗦𝗮𝗻𝗰𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀 𝗟𝗶𝘀𝘁
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) March 16, 2026
The UN Security Council’s Sanctions Committee updated the records of 22 out of more than 100 listed Taliban leaders on 10 March 2026. The updates include several current Taliban cabinet… pic.twitter.com/ZaQbSSUOk5
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے ایک غیر معمولی پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر اور وزیرِ دفاع اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جب سلامتی کونسل نے برسوں قبل طالبان پر پابندیوں کا نظام ترتیب دیا تھا تو ان دونوں رہنماؤں کو تحریک کے مرکزی فیصلہ سازوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے نام ابتدائی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق ریکارڈز کی یہ اپڈیٹ پابندیوں کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے کی گئی ہے تاکہ طالبان رہنماؤں پر عالمی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان