نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی دیگر صوبوں میں ممکنہ منتقلی نے 16 سالہ جمود کو توڑنے کی راہ ہموار کر دی ہے؛ ماہرین اسے عدالتی شفافیت اور روٹیشن پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

May 1, 2026

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن کی تدفین اور نمازِ جنازہ افغان طالبان کی نگرانی میں ادا کی گئی، جو دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔

May 1, 2026

عالمی منڈی میں تیل 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باوجود حکومت نے 129 ارب روپے کی سبسڈی برقرار رکھتے ہوئے ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔

May 1, 2026

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست اپڈیٹ: کئی طالبان رہنماؤں کے نام نکال دئیے گئے

نئی فہرست کے مطابق طالبان سفارت خانے متحدہ عرب امارات کے تھرڈ سیکرٹری عزیز الرحمن عبدالاحاد کا نام پہلی بار پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان رہنماؤں پر عائد کردہ پابندیوں کے نظام میں ترمیم کرتے ہوئے 22 رہنماؤں کے ریکارڈز میں تبدیلیاں کر دیں، تاہم پابندیاں بدستور برقرار ہیں

فہرست سے نکالے جانے والے نمایاں افراد میں طالبان ہلال احمر کے سربراہ شہاب الدین دلاور، وزارت خارجہ کے سیاسی نائب شیر محمد عباس ستانکزئی، شہری ترقی و ہاؤسنگ کے قائم مقام وزیر حمد اللہ نعمانی، وزارت دفاع کے پہلے نائب حمید اللہ اخند شیر محمد اور سرحدی و قبائلی امور کے قائم مقام وزیر نور اللہ نوری شامل ہیں

March 16, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے طالبان رہنماؤں کی پابندیوں کی فہرست میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔

10 مارچ 2026 کو جاری مراسلے کے مطابق پابندیوں کی فہرست میں شامل 100 سے زائد طالبان رہنماؤں میں سے 22 افراد کی تفصیلات اپڈیٹ کی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ ان ترامیم سے پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں آئی۔

تمام افراد پر بدستور عالمی سفری پابندیاں، اثاثوں کی منجمدی اور اسلحہ کی فراہمی پر پابندی برقرار ہے۔

نئی فہرست کے مطابق طالبان سفارت خانے متحدہ عرب امارات کے تھرڈ سیکرٹری عزیز الرحمن عبدالاحاد کا نام پہلی بار پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ فہرست میں شامل کم از کم 39 طالبان رہنماؤں اور ارکان کے نام نکال دیے گئے ہیں۔

فہرست سے نکالے جانے والے نمایاں افراد میں طالبان ہلال احمر کے سربراہ شہاب الدین دلاور، وزارت خارجہ کے سیاسی نائب شیر محمد عباس ستانکزئی، شہری ترقی و ہاؤسنگ کے قائم مقام وزیر حمد اللہ نعمانی، وزارت دفاع کے پہلے نائب حمید اللہ اخند شیر محمد اور سرحدی و قبائلی امور کے قائم مقام وزیر نور اللہ نوری شامل ہیں۔

دیگر افراد میں ہیبت اللہ اخوندزادہ کے مالی مشیر جان محمد مدنی اکرم، حقانی نیٹ ورک کے سینئر رکن یحییٰ حقانی، سراج الدین حقانی کے سینئر مشیر شمس الرحمان اور حقانی نیٹ ورک سے منسلک مشیر محمد طاہر انوری بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے ایک غیر معمولی پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر اور وزیرِ دفاع اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق جب سلامتی کونسل نے برسوں قبل طالبان پر پابندیوں کا نظام ترتیب دیا تھا تو ان دونوں رہنماؤں کو تحریک کے مرکزی فیصلہ سازوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے نام ابتدائی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ریکارڈز کی یہ اپڈیٹ پابندیوں کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے کی گئی ہے تاکہ طالبان رہنماؤں پر عالمی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔

دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان

متعلقہ مضامین

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی دیگر صوبوں میں ممکنہ منتقلی نے 16 سالہ جمود کو توڑنے کی راہ ہموار کر دی ہے؛ ماہرین اسے عدالتی شفافیت اور روٹیشن پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *