پی ٹی آئی لانگ مارچ اور راستوں کی بندش پر پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے؛ ٹائر جلا کر خیبر روڈ بند کر دیا اور کاروبار کی تباہی پر شدید احتجاج کیا۔

October 5, 2026

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس کی خالی اسامیوں اور سی ٹی ڈی کی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

بھارتی ٹریولر انکیتا کمار نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں سے ملاقاتوں کے حیران کن انکشافات کیے، پاکستان مخالف بیانات اور بھارت سے قربت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 5, 2026

ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس میں پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

October 5, 2026

گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم نے پاکستان کو افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرات پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے مربوط حکمتِ عملی پر زور دیا ہے۔

October 5, 2026

ریاست مقدم ہے: ملکی اداروں کے خلاف دھمکیوں اور داخلی انتشار کا محاسبہ ناگزیر قرار

ایران اپنے قومی مفاد میں بھارت سے تعاون کر رہا ہے، وہیں پاکستان میں مخصوص عناصر کی جانب سے اپنی ہی ریاست کو نشانہ بنانا تشویشناک امر ہے
ایران اپنے قومی مفاد میں بھارت سے تعاون کر رہا ہے، وہیں پاکستان میں مخصوص عناصر کی جانب سے اپنی ہی ریاست کو نشانہ بنانا تشویشناک امر ہے

آذربائیجان کی مثال اور ایران کے حالیہ تزویراتی فیصلوں کی روشنی میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر ملک کے لیے اس کا اپنا مفاد سب سے مقدم ہوتا ہے

March 16, 2026

کسی بھی شہری اور محبِ وطن فرد کے لیے اس کی اپنی ریاست اور دھرتی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا کیونکہ ارض پاک سے وابستگی اور ریاست کی بقا ہی فرد کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت اس کے برعکس صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں قومی مفادات پر ذاتی اور گروہی بیانیے غالب نظر آتے ہیں۔ ملکی دفاعی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا ریاست کی “ماں جیسی نرمی” کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؟

ریاست کی نرمی اور داخلی انتشار

یہاں اس تضاد کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ نیز جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سکردو میں دو فوجی جوانوں کا قتل، ملک کے بڑے شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور ملکی و عسکری سربراہان کو برسرِمنبر دی جانے والی دھمکیاں اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک مخصوص گروہ نے احتجاج اور مظلومیت کی آڑ میں پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ریاست کے خلاف زہر اگل کر ملکی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ واقعات جہاں رونما ہوئے، یعنی ایران میں، وہاں اس شدت کے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے، جبکہ پاکستان میں اس کی آڑ میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آذربائیجان بمقابلہ پاکستان

اس صورتحال کا موازنہ آذربائیجان سے کیا جا رہا ہے، جہاں 65 فیصد سے زائد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن وہاں نہ تو کوئی احتجاجی لہر اٹھی اور نہ ہی اداروں کو اشارتاً یا کنایتاً کوئی دھمکی دی گئی۔ یہ مثال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دیگر ممالک میں شہری اپنی ریاست اور اداروں کے نظم و ضبط کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی و تزویراتی تعلقات استوار کر رہا ہے اور بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔

محاسبے کا وقت

عوامی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کے اندر بیٹھ کر اپنے ہی ملک اور اداروں کے خلاف سازش کرنے والے ان عناصر کا محاسبہ کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ “پاکستان سب سے پہلے” کے اصول کو اپنایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ریاست کی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جب ہر ملک اپنی پالیسیاں اپنے فائدے کے گرد مرتب کرتا ہے، تو پاکستانی شہریوں کو بھی کسی بیرونی وابستگی کے بجائے صرف اپنی ریاست کی مضبوطی اور وقار کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی لانگ مارچ اور راستوں کی بندش پر پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے؛ ٹائر جلا کر خیبر روڈ بند کر دیا اور کاروبار کی تباہی پر شدید احتجاج کیا۔

October 5, 2026

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس کی خالی اسامیوں اور سی ٹی ڈی کی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

بھارتی ٹریولر انکیتا کمار نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں سے ملاقاتوں کے حیران کن انکشافات کیے، پاکستان مخالف بیانات اور بھارت سے قربت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *