عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع ‘وکٹوریہ بیس’ کو ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ روسی میڈیا نے عراقی مزاحمتی تنظیم کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں 10 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع اس فوجی تنصیب پر حملہ رات گئے کیا گیا، جس میں جدید ڈرونز اور راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق ڈرون حملے کے بعد بیس کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی کوششیں کی گئیں۔ ابتدائی طور پر اس حملے میں 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، تاہم اب ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
عراقی مزاحمتی تنظیم نے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گزشتہ روز ہی بیس پر ہونے والے حملے کی ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، اور آزاد ذرائع سے بھی ان اعداد و شمار کی توثیق ہونا ابھی باقی ہے۔
واضح رہے کہ عراق میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں میں حالیہ عرصے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ واقعہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔