آپریشن غضب للحق جاری؛ کابل اور ننگرہار میں پاکستان فضائیہ کے ڈرون ورکشاپس پر حملے، اسرائیلی پرزوں سے ڈرون بنانے والی ورکشاپ سمیت متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

اب سے کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
آپریشن غضب للحق جاری؛ کابل اور ننگرہار میں پاکستان فضائیہ کی مزید کاروائیاں، متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

ذرائع کے مطابق حملوں میں طالبان کے بعض فوجی ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

March 16, 2026

پاکستان کا افغانستان میں خوارج کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ اب سے کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں کابل اور ننگرہار صوبے کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ننگرہار میں پاکستان فضائیہ نے چار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس میں گوشتہ، غنی خیل، نازیان اور اچن کے علاقے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حملوں میں طالبان کے بعض فوجی ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم حملوں کی نوعیت، ہلاکتوں یا نقصانات کے بارے میں تاحال سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ورکشاپس پر حملے، اسرائیلی پرزوں سے ڈرون بنانے والے مراکز تباہ

انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق، ننگرہار میں چار اور کابل میں دو ڈرون اسمبلی ورکشاپس کو کامیاب حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ ورکشاپس بھارتی اور اسرائیلی ساختہ پرزوں سے ڈرون تیار کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں افغانستان کی ڈرون اسمبلنگ کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور مقامی سطح پر ڈرون تیار کرنے کی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

اس اقدام کو علاقائی سلامتی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر قانونی تیاری کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کابل کے ضلع 8 کے علاقے شاہ شہید میں واقع سیاہ سنگ فوجی سیکٹر کے قریب دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق متاثرہ مقام سیاہ سنگ بیس کے قریب ہے جو ماضی میں افغان فوجی تنصیبات اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کا اہم مرکز رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ فضائی حملے کے بعد کا منظر دکھایا جا رہا ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق ایک دھماکہ PD-8 میں سیاہ سنگ بیس (وزارت دفاع کی اہم تنصیب) کے قریب جبکہ دوسرا PD-16 پولیس دفتر کے پیچھے سنا گیا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں کابل ایئرپورٹ کے نزدیک بھی حملے کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

نوٹ: کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *