پاکستان کا افغانستان میں خوارج کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ اب سے کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں کابل اور ننگرہار صوبے کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ننگرہار میں پاکستان فضائیہ نے چار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس میں گوشتہ، غنی خیل، نازیان اور اچن کے علاقے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملوں میں طالبان کے بعض فوجی ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم حملوں کی نوعیت، ہلاکتوں یا نقصانات کے بارے میں تاحال سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ورکشاپس پر حملے، اسرائیلی پرزوں سے ڈرون بنانے والے مراکز تباہ
انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق، ننگرہار میں چار اور کابل میں دو ڈرون اسمبلی ورکشاپس کو کامیاب حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ ورکشاپس بھارتی اور اسرائیلی ساختہ پرزوں سے ڈرون تیار کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں افغانستان کی ڈرون اسمبلنگ کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور مقامی سطح پر ڈرون تیار کرنے کی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
اس اقدام کو علاقائی سلامتی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر قانونی تیاری کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کابل کے ضلع 8 کے علاقے شاہ شہید میں واقع سیاہ سنگ فوجی سیکٹر کے قریب دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق متاثرہ مقام سیاہ سنگ بیس کے قریب ہے جو ماضی میں افغان فوجی تنصیبات اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کا اہم مرکز رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ فضائی حملے کے بعد کا منظر دکھایا جا رہا ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق ایک دھماکہ PD-8 میں سیاہ سنگ بیس (وزارت دفاع کی اہم تنصیب) کے قریب جبکہ دوسرا PD-16 پولیس دفتر کے پیچھے سنا گیا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں کابل ایئرپورٹ کے نزدیک بھی حملے کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
نوٹ: کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔