طالبان کی جانب سے جس مقام کو ہسپتال کہا گیا وہ دراصل امریکی دور کا اہم ترین فوجی اڈہ ‘کیمپ فینکس’ ہے؛ ملٹری زون کے وسط میں واقع عسکری عمارت کی حقیقت نے طالبان کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا

March 17, 2026

راولپنڈی پر افغان ڈرون حملے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ نکلا؛ کٹاس راج کے بھکت اور ہندوتوا ایجنڈے پر مبنی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا مضحکہ خیز پراپیگنڈا بے نقاب

March 17, 2026

سرکاری مؤقف کے مطابق سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

March 17, 2026

جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں

March 17, 2026

خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے

March 17, 2026

طالبان کے ترجمان کی کا کابل میں ہسپتال پر حملے اور بھاری جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد؛ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو چھپانے اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کو چھپانے کا پراپیگنڈا ہے

March 17, 2026

تعلیم دشمنی یا نسلی تطہیر، جوزجان میں ازبک خواتین اساتذہ کی چھانٹی

جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں
جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں

غیر پشتون خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک طرف تجربہ کار خواتین اساتذہ کو کام سے معطل کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے قریبی افراد کو تدریسی عہدوں پر مقرر کیا جا رہا ہے

March 17, 2026

افغان طالبان کی تعلیم دشمنی یا غیر پشتونوں کی نسلی تطہیر؛ طالبات کے لیے پرائمری تک تعلیم کی راہ میں بھی روڑے اٹکانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان چن چن کر غیر پشتون خواتین اساتذہ کو برطرف کر رہے ہیں یا ان کا تبادلہ کہیں دور دراز علاقوں میں کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ تنگ آکر نوکری چھوڑ دیں؛ جو نوکری نہ چھوڑے اسے کسی بھی الزام کے تحت برطرف کر دیا جاتا ہے۔ غیر پشتون خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک طرف تجربہ کار خواتین اساتذہ کو کام سے معطل کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے قریبی افراد کو تدریسی عہدوں پر مقرر کیا جا رہا ہے۔

جوزجان میں شبرغان کے گوہر شاد بیگم ہائی اسکول کی تاجک اساتذہ کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا گیا اور ان کی جگہ طالبان عہدیداروں کی رشتہ دار ایسی خواتین کو تعینات کیا گیا جو کم تعلیم یافتہ ہیں اور پڑھانے کا تجربہ بھی نہیں رکھتیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں مختلف الزامات لگا کر ان تاجک اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا۔ جن خواتین کا خلافِ ضابطہ تقرر کیا گیا ہے، ان میں محکمہ تعلیم میں ہیومن ریسورسز کے ڈائریکٹر صالح محمد کی بیٹی بھی شامل ہے۔

دیکھیے: کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟

متعلقہ مضامین

طالبان کی جانب سے جس مقام کو ہسپتال کہا گیا وہ دراصل امریکی دور کا اہم ترین فوجی اڈہ ‘کیمپ فینکس’ ہے؛ ملٹری زون کے وسط میں واقع عسکری عمارت کی حقیقت نے طالبان کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا

March 17, 2026

راولپنڈی پر افغان ڈرون حملے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ نکلا؛ کٹاس راج کے بھکت اور ہندوتوا ایجنڈے پر مبنی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا مضحکہ خیز پراپیگنڈا بے نقاب

March 17, 2026

سرکاری مؤقف کے مطابق سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

March 17, 2026

خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے

March 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *