پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کی گئی انٹیلیجنس پر مبنی کاروائیوں کے بعد طالبان حکومت نے ایک بار پھر روایتی مظلومیت اور پراپیگنڈے کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ طالبان کے نائب ترجمان حماد اللہ فطرت نے الزامعائد کیا ہے کہ پاکستان نے کابل میں ہسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس میں 400 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے، جبکہ تنصیبات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔ تاہم زمینی حقائق کے مطابق یہ دعوے محض ایک من گھڑت کہانی ہیں تاکہ افغان سرزمین سے منظم دہشت گرد نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جو پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
طالبان کا پرایپگنڈا
ماہرین کے مطابق طالبان حکومت بار بار ایک ہی کہانی دہراتی ہے جب بھی دہشت گرد ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو فوری طور پر اسے شہری مقام قرار دے کر غصہ پیدا کرنے اور حقائق سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہری ہلاکتوں کے دعوے جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں تاکہ اصل ہدف کو چھپایا جا سکے۔ ہسپتال یا شہریوں کا بیانیہ معمول کا احاطہ بن چکا ہے، جہاں ہر دہشت گرد سے منسلک مقام اچانک سرکاری بیانات میں انسانی ہمدردی کی جگہ بن جاتا ہے۔ یہ دعوے ہمیشہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت فراہم کرنے والے مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں، جو جان بوجھ کر چھپانے کی کوشش کو ظاہر کرتے ہیں۔
The Pakistani military regime carried out an airstrike at approximately 9:00 PM this evening on the Omid Addiction Treatment Hospital, a 2,000-bed facility dedicated to the treatment of drug addiction. As a result of the attack, large sections of the hospital have been destroyed,…
— Hamdullah Fitratحمدالله فطرت (@FitratHamd) March 16, 2026
دہشت گردوں کے لیے سازگار ماحول
حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں اور بعد میں اس کے نتائج کو پراپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے مقامات پر موجود کئی افراد دہشت گرد نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جن میں سہولت کار اور معاون شامل ہیں اور انہیں جان بوجھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ وہی ہے؛ دہشت گردی افغانستان کی زمین سے جاری ہے جو طالبان کے زیرِ نگرانی ہے، جبکہ ذمہ داری سے انکار کیا جاتا ہے۔
دوحہ معاہدہ اور عالمی تشویش
طالبان نے دوحہ فریم ورک کے تحت وعدہ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کریں گے اور افغان زمین کو دیگر ریاستوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں گے، لیکن کوئی قابلِ اعتماد اقدام نہیں ہوا۔ اس کے بجائے ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہ دوبارہ منظم ہوئے، تربیت پائی اور حملے کیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم (رپورٹس 35، 36، 37 اور 16) مسلسل یہ بتاتی ہے کہ طالبان کے تحت افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں شامل ہیں جو نسبتا آزادانہ کام کر رہی ہیں۔
پاکستان کا حق دفاع
افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں جن کے پاس 13,000 سے زائد غیر ملکی جنگجو ہیں، جبکہ روسی وزارت خارجہ (فروری 2026) نے 23,000 سے زائد دہشت گردوں کی موجودگی کا تخمینہ لگایا۔ 2025 میں 600 سے زائد ٹی ٹی پی حملے افغان علاقے سے مربوط پائے گئے، جو ان گروہوں کی مستحکم آپریشنل صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان مسلسل اس ماحول کی براہِ راست قیمت برداشت کر رہا ہے؛ صرف 2025 میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی ہوئے۔ یہ وہ نقصان ہے جو پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے اٹھاتا ہے۔ پاکستان نے طویل عرصہ صبر کا مظاہرہ کیا اور سفارتی چینلز کو پوری طرح استعمال کیا۔ موجودہ ٹارگیٹڈ انسداد دہشت گردی کاروائی قانونی، متناسب اور ضروری دفاعِ خود ہے۔
حقیقت واضح ہے کہ طالبان کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہلاکتوں کے بیانیے انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں؛ یہ دہشت گرد ڈھانچوں کو چھپانے اور وعدے کی خلاف ورزی کو چھپانے کا ڈھال ہیں۔ معاملہ شہریوں یا ہسپتالوں کا نہیں بلکہ دہشت گردی اور ایک ایسے حکومت کا ہے جو اسے ختم کرنے سے انکار کر رہی ہے اور مظلومیت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
دیکھیے: کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟