پشاور: افغان مہاجرین شوریٰ کے عمائدین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ طورخم بارڈر فوری طور پر کھولا جائے اور افغان مہاجرین کو عیدالفطر تک قیام کی مہلت دی جائے، انہوں نے کہا کہ مہاجرین خود رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جائیں گے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک مجاہد شینواری، ملک اول خان اور ملک شاہ محمود نے کہا کہ سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بارڈر کھولا جائے تاکہ راستوں میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میگا آپریشن سے گریز کرے اور مہاجرین کو عید تک اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہنے دیا جائے۔
ملک مجاہد شینواری نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، جبکہ پاکستان اور افغان حکام مل بیٹھ کر مہاجرین کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے پاکستان کو “رضاعی ماں” قرار دیتے ہوئے 46 سالہ مہمان نوازی پر شکریہ بھی ادا کیا۔
ملک اول خان نے مطالبہ کیا کہ افغان تاجروں کی وہ رقوم واپس دلائی جائیں جو بعض افراد کے پاس پھنسی ہوئی ہیں، تاکہ واپسی کے بعد وہ بہتر زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے یو این ایچ سی آر کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا۔
عمائدین نے خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قید افغان مہاجرین کو عید کے موقع پر رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عید گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین پاکستان کے قوانین کا احترام کرتے ہوئے باعزت طریقے سے واپسی چاہتے ہیں
دیکھئیے:پاک افغان سرحد پر کسی جھڑپوں کی خبریں بے بنیاد قرار، ذرائع نے افواہیں مسترد کر دیں