یروشلم: اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز عید ادا کرنے سے روک دیا، جس کے باعث سینکڑوں افراد کو پرانے شہر کے باہر نماز ادا کرنا پڑی، جبکہ اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے نمازیوں کو داخل ہونے سے روک دیا۔
رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران سے بڑھتی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث لگائی گئیں، تاہم فلسطینیوں کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں مزید پابندیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق ایسے اقدامات خطے میں مذہبی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
دیکھئیے:انتہا پسند نیتن یاہو کی حضرت عیسی کی شان میں گستاخی، موازنہ چنگیز خان سے کر دیا