اسلام آباد: افغان طالبان کے ڈپٹی ترجمان کی جانب سے پاکستان پر صبح 9:30 بجے سیز فائر کی مبینہ خلاف ورزی اور شیلنگ کے الزامات کو سکیورٹی ذرائع نے مسترد کرتے ہوئے اسے فیک نیوز اور گمراہ کن بیانیہ قرار دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر اتوار کی صبح کسی بھی قسم کی شیلنگ یا شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیز فائر کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے اور پاکستان کی جانب سے کسی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
طالبان ڈپٹی ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ کنڑ اور پکتیکا میں پاکستانی فورسز کی کارروائیوں میں جانی نقصان ہوا، تاہم سکیورٹی حکام کے مطابق یہ الزامات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی کوئی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
یاد رہے کہ دونوں جانب سے عید کے احترام میں کشیدگی ختم کرنے اور سیز فائر برقرار رکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جس پر پاکستان عمل پیرا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران کسی بھی قسم کی شیلنگ یا جارحانہ کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ طالبان کی جانب سے سیز فائز خلاف ورزی کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کا مقصد پاکستان کو سیز فائر کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرانا اور عالمی سطح پر تاثر خراب کرنا ہے، جبکہ زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدگی میں اس نوعیت کے دعوے پروپیگنڈا جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، اس لیے مستند معلومات کو ترجیح دینا ضروری ہے