وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات کے پیشِ نظر سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پیٹرول کے استعمال پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد قومی وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے، تاہم اگر کسی سرکاری گاڑی میں ہائی اوکٹین کا استعمال ناگزیر ہو تو استعمال کرنے والا افسر اس کی ادائیگی اپنی جیب سے کرنے کا پابند ہوگا۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا جس کے تحت امیر طبقے کے زیرِ استعمال لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین فیول پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت ہوگی، جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو ریلیف کی صورت میں دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا بوجھ صرف صاحبِ ثروت طبقے پر پڑے گا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عام گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب عالمی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک میں مٹی کا تیل 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 428 روپے 74 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ صرف دو ہفتوں کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 120 روپے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے تمام وفاقی محکموں اور اتھارٹیز کو کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔