بلوچستان میں سرگرم دو بڑی مسلح تنظیموں، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے درمیان بڑھتے ہوئے داخلی اختلافات اب عوامی سطح پر سنگین الزامات کی صورت میں سامنے آ گئے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ پریس ریلیز میں بی ایل ایف کی قیادت اور ان کے داخلی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس نے نام نہاد ‘باغی اتحاد’ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
غداری کا دعویٰ
بی ایل اے نے اپنے بیان میں بی ایل ایف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان افراد کا دفاع کر رہی ہے جنہیں بی ایل اے پہلے ہی ‘ریاستی ایجنٹ’ قرار دے کر سزا دے چکی ہے۔ ان میں خاص طور پر عبدالقی المعروف “لانگ” اور سلیمان المعروف “صدّام” شامل ہیں۔ بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس بی ایل ایف کے ایک کمانڈر کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی ایل ایف قیادت کو ان مبینہ خفیہ رابطوں کا پہلے سے علم تھا، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔
کمانڈر چکر بلوچ کی ہلاکت
یہ دعویٰ بی ایل اے کی جانب سے یہ سامنے آیا ہے کہ بی ایل ایف کے کمانڈر چکر بلوچ کو انہی ‘خفیہ رابطوں’ اور اندرونی مخبری کے ذریعے جان بوجھ کر خطرے میں ڈال کر ملوایا گیا۔ اس سنگین الزام نے دونوں تنظیموں کے درمیان رہی سہی عملی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی
ذرائع کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان پیدا ہونے والی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ہونے والی مذاکراتی کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں۔ بی ایل اے نے بی ایل ایف کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ارکان پر ہی شبہ ظاہر کرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب دو حلیف تنظیمیں عوامی سطح پر ایک دوسرے پر ‘ریاستی ایجنٹوں کو پناہ دینے’ اور ‘اپنے ہی ساتھیوں کو مروانے’ کے الزامات لگانے لگیں، تو یہ ان کی داخلی سکیورٹی اور تنظیمی ڈھانچے کی مکمل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے داخلی انتشار کسی بھی گروہ کو بیرونی دباؤ سے زیادہ تیزی سے کمزوری اور خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں۔