تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں کا سفر بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ 23 مارچ 1940 کا سورج ایک ایسی ہی صبحِ نو کی نوید بن کر طلوع ہوا تھا، جس نے محکومی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کو ‘منزلِ مراد’ کا سراغ دیا۔ آج جب ہم اس تاریخی قرارداد کے 86 سال مکمل ہونے پر یومِ پاکستان منا رہے ہیں، تو یہ موقع صرف چراغاں کرنے یا جھنڈے لہرانے کا نہیں ہے بلکہ اس نظریے اور اساسی مقصد کے ادراک کا ہے جس کے لیے ہمارے اسلاف نے بے مثال قربانیاں دیں۔
تحریکِ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان کسی جغرافیائی قطعہ زمین کے حصول کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک تہذیبی بقا کی جنگ تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور علامہ اقبال کے خوابوں نے جس تحریک کو جنم دیا، اس کا محور ‘انسان کی آزادی’ اور ‘آئین کی بالادستی’ تھا۔ آج 2026 کے تناظر میں جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور سرحدوں پر منڈلاتے خطرات ہمیں ایک بار پھر اسی ‘اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم’ کی طرف بلا رہے ہیں جس کا درس بانیِ پاکستان نے دیا تھا۔
مستقبل کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے جوہری قوت بن کر اور دہشت گردی کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ اور ‘بنیانِ المرصوص’ جیسے معرکوں میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کر کے اپنا دفاع تو ناقابلِ تسخیر بنا لیا ہے، لیکن حقیقی خود مختاری اب معاشی استحکام اور خود انحصاری سے جڑی ہوئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے حالات اور عالمی چیلنجز کے پیشِ نظر، خارجہ پالیسی میں توازن اور ‘کفایت شعاری’ کو قومی شعار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تاہم یہ دن صرف جشن کا نہیں بلکہ ‘خود احتسابی’ کا بھی ہے۔ ہمیں یہ سوال خود سے کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے اس ملک میں قانون کی وہ حکمرانی قائم کر لی ہے جس کا خواب اسلاف نے دیکھا تھا؟ کیا ہم نے اپنے نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کیے ہیں جن سے وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کر سکیں؟ آزادی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہر فرد کو اپنے شعبے میں دیانتداری سے کام کرنا ہوگا۔
آئیے! آج کے دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم گروہی، لسانی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ‘پاکستان فرسٹ’ کے نظریے کو اپنائیں گے۔ ہمیں ایک ایسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنی ہے جہاں انصاف صرف طاقتور کے لیے نہ ہو اور جہاں معیشت کا پہیہ عام آدمی کی خوشحالی کے لیے چلے۔ یومِ پاکستان ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر ہماری نیتیں صاف اور ارادے بلند ہوں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بننے سے نہیں روک سکتی۔