...
یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر ایچ ٹی این کا خصوصی اداریہ؛ قراردادِ لاہور کی تاریخی اہمیت، دفاعی کامیابیوں اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت پر تفصیلی جائزہ

March 23, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں علامہ زاہد عباس کاظمی کا پاک فوج کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کا اعلان؛ فیلڈ مارشل نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر تعزیت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی

March 23, 2026

بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان عوامی سطح پر الزامات کا تبادلہ؛ بی ایل اے نے بی ایل ایف پر ریاستی ایجنٹوں کی پشت پناہی اور اپنے ہی کمانڈر چکر بلوچ کو مروانے کا سنگین الزام عائد کر دیا، جس سے بلوچ باغی اتحاد بکھرنے کے قریب پہنچ گیا ہے

March 23, 2026

تحریک طالبان افغانستان رہنماء سعید خوستی کی جانب سے القاعدہ سے منسلک شیخ ہانی السباعی کے پاکستان مخالف خطبے کی تشہیر نے کابل اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گہرے روابط کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے

March 23, 2026

ملک بھر میں 86واں یومِ پاکستان روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے؛ مسلح افواج نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہمہ وقت تیار رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی

March 23, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر لیوی میں 200 روپے اضافے سے ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے

March 23, 2026

نظریۂ پاکستان اور 2026 کے تقاضے: ایک زندہ قوم کا تجدیدِ عہد

یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر ایچ ٹی این کا خصوصی اداریہ؛ قراردادِ لاہور کی تاریخی اہمیت، دفاعی کامیابیوں اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت پر تفصیلی جائزہ
قراردادِ لاہور سے ایٹمی قوت تک کا سفر: 23 مارچ 2026 کے تناظر میں پاکستان کی بقا اور حقیقی خود مختاری کا جائزہ۔ کس طرح 'قومی مفاد' اور 'خود احتسابی' کے ذریعے ہم بانیٔ پاکستان کے خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کر سکتے ہیں

آج 86واں یومِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیامِ پاکستان ایک عظیم نظریے کا نام تھا۔ آئیے آج کے دن عہد کریں کہ ہم اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر وطنِ عزیز کو معاشی طور پر مستحکم اور داخلی طور پر مضبوط بنائیں گے

March 23, 2026

تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں کا سفر بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ 23 مارچ 1940 کا سورج ایک ایسی ہی صبحِ نو کی نوید بن کر طلوع ہوا تھا، جس نے محکومی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کو ‘منزلِ مراد’ کا سراغ دیا۔ آج جب ہم اس تاریخی قرارداد کے 86 سال مکمل ہونے پر یومِ پاکستان منا رہے ہیں، تو یہ موقع صرف چراغاں کرنے یا جھنڈے لہرانے کا نہیں ہے بلکہ اس نظریے اور اساسی مقصد کے ادراک کا ہے جس کے لیے ہمارے اسلاف نے بے مثال قربانیاں دیں۔

تحریکِ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان کسی جغرافیائی قطعہ زمین کے حصول کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک تہذیبی بقا کی جنگ تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور علامہ اقبال کے خوابوں نے جس تحریک کو جنم دیا، اس کا محور ‘انسان کی آزادی’ اور ‘آئین کی بالادستی’ تھا۔ آج 2026 کے تناظر میں جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور سرحدوں پر منڈلاتے خطرات ہمیں ایک بار پھر اسی ‘اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم’ کی طرف بلا رہے ہیں جس کا درس بانیِ پاکستان نے دیا تھا۔

مستقبل کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے جوہری قوت بن کر اور دہشت گردی کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ اور ‘بنیانِ المرصوص’ جیسے معرکوں میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کر کے اپنا دفاع تو ناقابلِ تسخیر بنا لیا ہے، لیکن حقیقی خود مختاری اب معاشی استحکام اور خود انحصاری سے جڑی ہوئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے حالات اور عالمی چیلنجز کے پیشِ نظر، خارجہ پالیسی میں توازن اور ‘کفایت شعاری’ کو قومی شعار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تاہم یہ دن صرف جشن کا نہیں بلکہ ‘خود احتسابی’ کا بھی ہے۔ ہمیں یہ سوال خود سے کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے اس ملک میں قانون کی وہ حکمرانی قائم کر لی ہے جس کا خواب اسلاف نے دیکھا تھا؟ کیا ہم نے اپنے نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کیے ہیں جن سے وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کر سکیں؟ آزادی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہر فرد کو اپنے شعبے میں دیانتداری سے کام کرنا ہوگا۔

آئیے! آج کے دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم گروہی، لسانی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ‘پاکستان فرسٹ’ کے نظریے کو اپنائیں گے۔ ہمیں ایک ایسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنی ہے جہاں انصاف صرف طاقتور کے لیے نہ ہو اور جہاں معیشت کا پہیہ عام آدمی کی خوشحالی کے لیے چلے۔ یومِ پاکستان ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر ہماری نیتیں صاف اور ارادے بلند ہوں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بننے سے نہیں روک سکتی۔

متعلقہ مضامین

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں علامہ زاہد عباس کاظمی کا پاک فوج کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کا اعلان؛ فیلڈ مارشل نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر تعزیت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی

March 23, 2026

بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان عوامی سطح پر الزامات کا تبادلہ؛ بی ایل اے نے بی ایل ایف پر ریاستی ایجنٹوں کی پشت پناہی اور اپنے ہی کمانڈر چکر بلوچ کو مروانے کا سنگین الزام عائد کر دیا، جس سے بلوچ باغی اتحاد بکھرنے کے قریب پہنچ گیا ہے

March 23, 2026

تحریک طالبان افغانستان رہنماء سعید خوستی کی جانب سے القاعدہ سے منسلک شیخ ہانی السباعی کے پاکستان مخالف خطبے کی تشہیر نے کابل اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گہرے روابط کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے

March 23, 2026

ملک بھر میں 86واں یومِ پاکستان روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے؛ مسلح افواج نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہمہ وقت تیار رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی

March 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.