لندن: ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے عالمی ہوا بازی کی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ائیرلائنز کو مجموعی طور پر 53 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی خطے کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود میں خلل پیدا ہوا، جس سے پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے اور متعدد روٹس تبدیل کرنا پڑے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وبا کے بعد سنبھلتی ہوئی ائیرلائن انڈسٹری ایک بار پھر بڑے بحران کا شکار ہو گئی ہے، جبکہ جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بعض اندازوں کے مطابق قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی ٹکٹوں میں اضافے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سپلائی چین، مسافروں کی تعداد اور ایوی ایشن سیکٹر کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دیکھئیے:ایران کے ڈیاگو گارشیا اور اسرائیل پر بیک وقت میزائل حملے