کابل: افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طالبان قیادت کو خبردار کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیوں کو ملک کے استحکام اور ترقی کیلئے تباہ کن قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں حامد کرزئی نے کہا کہ لڑکیوں کیلئے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند رکھنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ افغانستان کے مستقبل کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
As #Afghanistan begins the new academic year, former President Hamid Karzai warned de facto Taliban leaders Wednesday, without naming them, that the ongoing ban on women working and girls' higher education will cause lasting harm to the country’s stability & development. In a… https://t.co/j7XQ7sPMzU
— Ayaz Gul (@AyazGul64) March 25, 2026
انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا، اور طالبان کی موجودہ پالیسیاں افغانستان کو عالمی تنہائی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
کرزئی نے کہا کہ خواتین کو معاشرے سے باہر رکھنا ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، جو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے، لہٰذا فوری طور پر اسکولز اور جامعات کھولے جائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں پر نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تنقید جاری ہے، جبکہ خواتین کی تعلیم پر پابندی افغانستان کیلئے ایک بڑا سفارتی اور انسانی مسئلہ بن چکی ہے۔