یورپی فورمز پر حالیہ دنوں میں پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کی جانب سے انسانی حقوق کے نام پر سیاسی لابنگ نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق ڈاکٹر نسیم بلوچ جیسے افراد کے بیانات زمینی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کی ایک منظم کوشش ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے معاشی مفادات کو متاثر کرنا ہے۔
منظم پراپیگنڈا اور پسِ پردہ مقاصد
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تاثر دینا کہ پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات محض رسمی ہیں، سراسر غلط و بے بنیاد ہے۔ جی ایس پی پلس کا نظام 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد سے جڑا ہوا ہے، جس کی یورپی یونین کے ماہرین ہر دو سال بعد باریک بینی سے جانچ کرتے ہیں۔ یہ نظام خودکار نہیں بلکہ مکمل طور پر شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ہے، جو اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ انسانی حقوق کی شرائط صرف “کاغذوں کی حد تک” محدود ہیں۔
جی ایس پی پلس اور کڑی نگرانی
رپورٹ کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سیاسی وکیل بلوچستان میں جاری دہشت گردی اور تخریب کاری سے دانستہ نظریں چرا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کا واویلا کرنے والے یہ گروہ ججوں، اساتذہ، مزدوروں اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام اور قومی تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے بقول، جب تک دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک ایسے بیانیے کی کوئی علمی یا اخلاقی حیثیت نہیں رہتی۔
دہشت گردی کی دانستہ پردہ پوشی
اقتصادی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کی معطلی کی مہم درحقیقت پاکستان کے محنت کش طبقے کے خلاف “معاشی دہشت گردی” کے مترادف ہے۔ اس رعایت سے سب سے زیادہ فائدہ ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں غریب کارکنوں اور خواتین کو ہوتا ہے۔ ان مراعات کو ختم کرنے کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ ان عناصر کے پیشِ نظر انسانی حقوق نہیں بلکہ سیاسی و جغرافیائی مقاصد ہیں، جس کے لیے وہ عام شہریوں کے روزگار کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔
معاشی استحصال
عالمی فورمز کو دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرنا اقوامِ متحدہ کے منشور کی روح کے منافی ہے۔ پاکستان کے خلاف اس منظم مہم کا مقصد تجارتی نظام کو سیاسی بنا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، جس کا مقابلہ صرف حقائق پر مبنی تعمیری مکالمے سے ہی ممکن ہے۔